اردو غزلیاتجمیل الدین عالیشعر و شاعری

حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا

ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھ
کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا

اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو
کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا

گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا

اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے
دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا

دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں
کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

جمیل الدین عالی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button