آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

لو ہوں مگر چراغ کے اندر نہیں ہوں میں

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

لو ہوں مگر چراغ کے اندر نہیں ہوں میں
اتھلی سیاہیوں کو بھی ازبر نہیں ہوں میں

دیوار ہوں اور ایک جبیں کا سوال ہوں
سمٹے ہوئے قدم کے لیے در نہیں ہوں میں

آنکھوں کے پار آخری ندی ہے نیند کی
ندی کی تہہ میں رینگتا پتھر نہیں ہوں میں

شیشے کے اس طرف بھی دکھائی نہیں دیا
پانی کے انجماد سے بہتر نہیں ہوں میں

کچھ پیڑ آ رہے ہیں مری دھوپ چھانٹنے
سورج کے اختیار سے باہر نہیں ہوں میں

ارشاد نیازی

post bar salamurdu

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button