اردو غزلیاتڈاکٹر کبیر اطہرشعر و شاعری

ہمیں پتہ نہیں چلتا مگر پکارتے ہیں

ڈاکٹر کبیر اطہر کی ایک اردو غزل

ہمیں پتہ نہیں چلتا مگر پکارتے ہیں
اگر پرند نہ لوٹیں شجر پکارتے ہیں

یہ دیکھنے کو سمندر نہ چل پڑے گھر سے
وہ کیسی آنکھ ہے جس کو گہر پکارتے ہیں

خوشی کا کوئی بھی لمحہ ہو میرے یار مجھے
میں جس طرف نہیں ہوتا ادھر پکارتے ہیں

لگائیں گے کسی طائر کو اس ریاضت پر
بہار سنتی نہیں ہم اگر پکارتے ہیں

کیا ہے رقص سمندر پہ اس قدر میں نے
کہ میرے نام سے مجھ کو بھنور پکارتے ہیں

کوئی تو دور کرے ان کی بھی غلط فہمی
مجسمہ ہے جسے کم نظر پکارتے ہیں

گھرا ہوا ہے مصیبت میں شہر۔خواب مرا
مکین چیختے ہیں بام ودر پکارتے ہیں

بھلے نہ رکھے کوئی بھی منڈیر پر آنکھیں
چراغ بانٹنے والے مگر پکارتے ہیں

کبیر باندھ کے رکھا ہے چاند نے ورنہ
کئی ستارے مجھے رات بھر پکارتے ہیں

کبیر اطہر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button