آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتراکب مختار

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو

راکب مختار کی ایک اردو غزل

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو
ہائے افسوس کئی ہاتھوں سے میلا ہوا تو

ایک چھالے میں سمیٹوں تجھے رسوا کر دوں
دشت اترا نہ مرے سامنے پھیلا ہوا تو

موت سے قبل یہ احساس سکوں دے گا مجھے
تیرا دیکھا ہوا میں ہوں میرا دیکھا ہوا تو

ہاتھ در ہاتھ کئی ہاتھ جھٹکتا ہوا میں
لوگ در لوگ بھرے شہر سے ملتا ہوا تو

پتیاں پھول کی مٹی سے اٹھائیں تو مجھے
یاد آیا مری آغوش میں بکھرا ہوا تو

آنکھ کھلتے ہی مرے ہاتھ سے چھن جاتا ہے
حالت_نیند میں اک خواب سے مانگا ہوا تو

اس قدر اونچی ہے سینے کے مدینے کی فصیل
جس سے ٹکرا کے پلٹ آئے گا بھاگا ہوا تو

راکب مختار

راکب مختار

راکب مختار سن پیدائش 1987 تعلیم میٹرک تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ پنجاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button