- Advertisement -

Peechay Mud Kar Dhekna

An Urdu Ghazal By Nazeer Qaiser

پیچھے مڑ کے دیکھنا اچھا لگا
گھر کا خالی راستہ اچھا لگا
ساحلوں پر ہاتھ لہرانے لگے
مجھ کو اپنا ڈوبنا اچھا لگا
شام جیسے آنکھیں جھپکانے لگی
اس کے ہاتھوں میں دیا اچھا لگا
بچے نے تتلی پکڑ کر چھوڑ دی
آج مجھ کو بھی خدا اچھا لگا
ہلکی بارش تھی ہوا تھی شام تھی
ہم کو اپنا بھیگنا اچھا لگا
وہ دریچے میں کھڑی اچھی لگی
ہار بستر پر پڑا اچھا لگا
جانتی تھی وہ میں رک سکتا نہیں
لیکن اس کا روکنا اچھا لگا
وہ تو قیصرؔ مر مٹی میرے لیے
جانے اس کو مجھ میں کیا اچھا لگا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Column By Hayat Abdullah