- Advertisement -

ناؤ اس کی ہے جہاں چاہے اتارے مجھ کو

صدیق صائب کی ایک اردو غزل

ناؤ اس کی ہے جہاں چاہے اتارے مجھ کو
چھوڑ جائے کسی تنکے کے سہارے مجھ کو

منتظر میں تو ہوں خورشید کا اے ظلمت ِ شب
کس لیے کرتا ہے مہتاب اشارے مجھ کو

میں کہ گرداب میں غرقاب ہوا جاتا ہے
پھر اٹھا لائی ہے اک لہر کنارے مجھ کو

میری چاہت پہ ہوس کا جو گماں ہےاس کو
آزمائش سے کسی روز گزارے مجھ کو

میری منزل تری سوچوں سے بہت آگے ہے
راہ دکھلائیں گے کیا ترے ستارےمجھ کو

جانبِ قریہ ء معلوم سفر ہے میرا
کوئی بستی نہ کوئی دشت پکارے مجھ کو

پھر سرابوں پہ سمندر کا گماں ہے صائب
پھر ستاتے ہیں یہ فطرت کے نظارے مجھ کو

صدیق صائب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
صدیق صائب کی ایک اردو غزل