آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ

سعید شارق کی ایک اردو غزل

بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ
سو دل بھی بیٹھتا جاتا ہے اب غبار کے ساتھ

پٹخ چکی ہے مری ناؤ کو چٹان مگر
میں گر رہا ہوں ابھی تک اس آبشار کے ساتھ

شجر کا راج نہ تھا ابر کا رواج نہ تھا
پھر ایک پھول ملا باد ریگ زار کے ساتھ

کسے خبر کہ نوالہ ہے کس اندھیرے کا
جو خواب دیکھتا ہوں چشم‌ آب دار کے ساتھ

سفر کیا تھا کسی اور زندگی کے لیے
مگر پلٹنا پڑا شام انتظار کے ساتھ

کسی مدار کے دھوکے میں بے خبر شارقؔ
الجھ رہے ہیں ستارے مرے حصار کے ساتھ

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button