آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے

سعید شارق کی ایک اردو غزل

سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے
کیا درانتی ہے کہ خود فصل فنا کاٹتی ہے

ایک تصویر جو دیوار سے الجھی تھی کبھی
اب مری نظروں میں رہنے کی سزا کاٹتی ہے

تیری سرگوشی سے کٹ جاتا ہے یوں سنگ سکوت
جس طرح حبس کے پتھر کو ہوا کاٹتی ہے

قطع کرتا ہے مرے حلقۂ ویرانی کو
نیند جو موڑ پس خواب سرا کاٹتی ہے

یوں ہی گرتی نہیں اشکوں کی سیاہی دل پر
ان کہا لکھتی کبھی لکھا ہوا کاٹتی ہے

چیخنا چاہوں تو ڈستی ہے خموشی شارقؔ
چپ رہوں تو مجھے زہریلی صدا کاٹتی ہے

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button