مسابقت کے امتحانات اور انگریزی
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
مسابقت کے امتحانات اور انگریزی: میرٹ یا طبقاتی جبر؟
پاکستان کے مقابلہ جاتی امتحانات، خواہ وہ وفاقی سطح کے ہوں یا صوبائی، بنیادی طور پر انگریزی زبان پر مبنی ہیں۔ یہ معاملہ محض زبان کا نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور مواقع کی تقسیم کا ہے۔ انگریزی کو امتحانات کی لازمی شرط بنانا اصل میں اشرافیہ کے لیے آسانی اور عام پاکستانی کے لیے رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
انگریزی زبان کی یہ برتری اس طبقے کو فائدہ دیتی ہے جس کے بچے انگریزی میڈیم اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، مہنگی کوچنگ کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں اور امتحانی طریقوں پر عبور رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ امتحان میں آسانی سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف متوسط اور غریب گھرانوں کے وہ نوجوان، جو ذہانت اور قابلیت میں کسی سے کم نہیں ہوتے، انگریزی کی کمزوری کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال میرٹ کے نام پر دراصل ایک طبقاتی فلٹر ہے جو اصل صلاحیت کو پرکھنے کے بجائے زبان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ایک سرکاری افسر نے کس کے لیے کام کرنا ہے؟ وہ عوام کے لیے، جو اردو یا اپنی مادری زبان میں بات کرتے ہیں، یا انگریزی کے کاغذات کے لیے جنہیں عام آدمی سمجھ ہی نہیں سکتا؟ جب افسر کی تربیت اور امتحان ایک اجنبی زبان میں ہوں تو وہ عوام کے قریب نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ پالیسیاں اکثر عوامی مسائل کو چھو نہیں پاتیں، کیونکہ وہ زبان جس میں عوام سوچتے اور مسائل بیان کرتے ہیں، افسران کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔
انگریزی کو علم کا مترادف سمجھ لینا بھی ایک غلطی ہے۔ زبان علم کا ذریعہ تو ہو سکتی ہے، مگر علم کی بنیاد نہیں۔ تاریخ، سیاست، معاشیات یا سماجی علوم کو سمجھنے کے لیے زبان کوئی رکاوٹ نہیں اگر وسائل اور تراجم دستیاب ہوں۔ انگریزی میں روانی رکھنے والا ہر امیدوار بہترین منتظم نہیں ہوتا اور اردو یا علاقائی زبان جاننے والا ہر امیدوار کم فہم بھی نہیں ہوتا۔
عالمی سطح پر بھی یہ بات واضح ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی مادری زبانوں کو سرکاری اور تعلیمی زبان بنا کر زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے ہیں۔ انگریزی بین الاقوامی رابطے کی زبان ضرور ہے مگر اسے مقامی انتظامیہ اور عوامی خدمت کے لیے معیار بنا دینا دانش مندی نہیں۔ اس کے نتیجے میں وہی طبقہ آگے بڑھتا ہے جس کے پاس پہلے سے وسائل اور سہولتیں ہیں، اور باقی قوم پیچھے رہ جاتی ہے۔
یہ صورتحال غریب بچوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ وہ بچے جو ذہانت اور محنت میں کسی سے کم نہیں ہوتے، مگر انگریزی میڈیم تعلیم، کوچنگ سینٹرز اور وسائل کی کمی کے باعث امتحان میں اپنی صلاحیت دکھا نہیں پاتے۔ یوں اصل ٹیلنٹ ضائع ہو جاتا ہے اور طبقاتی خلیج مزید بڑھ جاتی ہے۔
اس کا حل یہ ہے کہ مقابلہ جاتی امتحانات میں امیدوار کو اپنی سہولت کے مطابق اردو یا علاقائی زبان استعمال کرنے کا حق دیا جائے۔ لازمی مضامین کو اردو میں دینے کی اجازت ہو، انٹرویو میں بھی امیدوار کو اپنی زبان میں بات کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، اور سرکاری سطح پر معیاری تراجم اور اصطلاحات کا ذخیرہ تیار کیا جائے تاکہ انتظامیہ اور عوام کے درمیان زبان کی دیوار ختم ہو سکے۔
یہ مسئلہ صرف زبان کا نہیں بلکہ مساوات اور انصاف کا ہے۔ جب تک ہم امتحانات اور نصاب کو طبقاتی تعصب سے پاک نہیں کرتے، میرٹ محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہر باصلاحیت نوجوان، خواہ وہ کسی گاؤں سے ہو یا کسی بڑے شہر سے، برابر مواقع کے ساتھ آگے بڑھے تو امتحانی نظام کو بدلنا ہوگا۔ انگریزی کو میرٹ کا پیمانہ بنانے کے بجائے حقیقی قابلیت، عوامی فہم اور خدمت کے جذبے کو معیار بنایا جائے۔ یہی راستہ ہے جو پاکستان کو ایک منصفانہ اور شمولیتی معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
یوسف صدیقی







