آپ کا سلاماردو شاعریاردو نظمسید محمد زاہد

آکسفورڈ میں

سید زاہد کی شاعری

حزیمت اب یہ بھی اٹھانا پڑے گی

در صنم پہ گردن جھکانا پڑے گی

سوے دیر دیکھو اجالا بہت ہے

اہل حرم، یہ خفت مٹانا پڑے گی

اندھیرے مٹا نہ سکا نور خورشید

شمع اک نئی اب جلانا پڑے گی

تجاہل عارفانہ، تغافل شاطرانہ

حد محبوب پرکوئی لگانا پڑے

زلف احمریں ، رخ پہ ہے چاند چمکا

بازی دل کی سب کو لگانا پڑے گی

جب کہ ہیں قرباں مرے دونوں عالم

دولت حسن انہیں بھی لٹانا پڑے گی

مبارزت طلب ہے یہ ساری دنیا

ریاضت عابد و زاہد، چھڑانا پڑے گی

سیّد محمد زاہد

سید محمد زاہد

ڈاکٹر سید محمد زاہد اردو کالم نگار، بلاگر اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا زیادہ تر کام موجودہ مسائل، مذہب، جنس اور طاقت کی سیاست پر مرکوز ہے۔ وہ ایک پریکٹس کرنے والے طبی ڈاکٹر بھی ہیں اور انہوں نے کئی این جی اوز کے ساتھ کام کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button