آپ کا سلاماحمد خیالاردو غزلیاتشعر و شاعری

جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے

احمد خیال کی اردو غزل

جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے

ہر مصیبت میں روانی سے نکل سکتا ہے

تو جو یہ جان ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہے

تیرا کردار کہانی سے نکل سکتا ہے

شہر انکار کی پر پیچ سی ان گلیوں سے

تو فقط عجز بیانی سے نکل سکتا ہے

گردش دور ترے ساتھ چلے چلتا ہوں

کام اگر نقل مکانی سے نکل سکتا ہے

اے مری قوم چلی آ مرے پیچھے پیچھے

کوئی رستہ بھی تو پانی سے نکل سکتا ہے

احمد خیال

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button