اردو غزلیاتسیّد اقبال عظیمشعر و شاعری

تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی

سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل

تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی
تو یاد رہے ہم سے بھی ویسی ہی سنو گی

یہ ہمسفری مصلحتِ وقت تھی ورنہ
یہ تو ہمیں معلوم تھا تم ساتھ نہ دو گی

یہ تازہ ستم ہم کو گوارہ تو نہیں ہے
ہم یہ بھی سہہ لیتے ہیں کیا یاد کرو گی

ہم شوق میں برباد ہوئے اپنے ہی ہاتھوں
روداد ہماری جو سنو گی تو ہنسو گی

تم آج سمجھتی ہو ہمیں غیر تو سمجھو
اوروں سے ملو گی تو ہمیں یاد کرو گی

منزل بھی ابھی دور ہے اور راہ بھی دشوار
کیا ہوگا اگر اپنے ہی سائے سے ڈرو گی

اپنوں سے خفا ہو کے کہاں جاؤ گی آخر
اقبال کو کب تک نظر انداز کرو گی

سیّد اقبال عظیم

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button