- Advertisement -

Saaz-e-Hasti Ki Sada

An Urdu Ghazal By Nasir Kazmi

ساز ہستی کی صدا غور سے سن

کیوں ہے یہ شور بپا غور سے سن

دن کے ہنگاموں کو بیکار نہ جان

شب کے پردوں میں ہے کیا غور سے سن

چڑھتے سورج کی ادا کو پہچان

ڈوبتے دن کی ندا غور سے سن

کیوں ٹھہر جاتے ہیں دریا سر شام

روح کے تار ہلا غور سے سن

یاس کی چھاؤں میں سونے والے

جاگ اور شور ذرا غور سے سن

ہر نفس دام گرفتاری ہے

نو گرفتار بلا غور سے سن

دل تڑپ اٹھتا ہے کیوں آخر شب

دو گھڑی کان لگا غور سے سن

اسی منزل میں ہیں سب ہجر و وصال

رہرو آبلہ پا غور سے سن

اسی گوشے میں ہیں سب دیر و حرم

دل صنم ہے کہ خدا غور سے سن

کعبہ سنسان ہے کیوں اے واعظ

ہاتھ کانوں سے اٹھا غور سے سن

موت اور زیست کے اسرار رموز

عامری بزم میں آ غور سے سن

کیا گزرتی ہے کسی کے دل پر

تو بھی اے جان وفا غور سے سن

کبھی فرصت ہو تو اے صبح جمال

شب گزیدوں کی دعا غور سے سن

ہے یہی ساعت ایجاب و قبول

صبح کی لو کو ذرا غور سے سن

کچھ تو کہتی ہیں چٹک کر کلیاں

کیا سناتی ہے صبا غور سے سن

برگ آوارہ بھی اک مطرب ہے

طائر نغمہ سرا غور سے سن

رنگ منت کش آواز نہیں

کل بھی ہے ایک نوا غور سے سن

خامشی حاصل موسیقی ہے

نغمہ ہے نغمہ نما غور سے سن

آئنہ دیکھ کے حیران نہ ہو

نغمۂ آب صفا غور سے سن

عشق کو حسن سے خالی نہ سمجھ

نالۂ اہل وفا غور سے سن

دل سے ہر وقت کوئی کہتا ہے

میں نہیں تجھ سے جدا غور سے سن

ہر قدم راہ طلب میں ناصرؔ

جرس دل کی صدا غور سے سن

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
حمید قیصر کی سوانح حیات