آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعریمحمد یوسف برکاتی

شرمندہ ہوں انساں ہوکر

یوسف برکاتی کی اردو شاعری

میں تو شرمندہ ہوں اس دور کا انساں ہوکر
انساں بھی رہتا ہو جہاں یاروں حیواں ہوکر

کس طرح جی رہا ہے اس دور میں انسان یہاں
یہ ہی سوچتا رہتا ہوں میں بس حیراں ہوکر

نہ مروت ہے نہ محبت ہے اور نہ ہی خلوص
نظریں جھکا کر گزر جاتا ہوں میں پشیماں ہوکر

جو مطلب نہ ہو تو میں کون اور تم کون یاروں
ہو اگر مطلب تو ہر شخص ملتا ہے قدرداں ہوکر

ہم بھی اس دور کی رنگینیوں میں گم ہو جاتے
فکر آخرت نے سنبھالا دیا ہم کو بس مہرباں ہوکر

اچھے دور کی اچھی یادیں زندہ رہیں یوسف
جو بچا ہے وقت وہ گزاردو یہاں بس مہماں ہوکر

محمد یوسف میاں برکاتی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button