میں تو شرمندہ ہوں اس دور کا انساں ہوکر
انساں بھی رہتا ہو جہاں یاروں حیواں ہوکر
کس طرح جی رہا ہے اس دور میں انسان یہاں
یہ ہی سوچتا رہتا ہوں میں بس حیراں ہوکر
نہ مروت ہے نہ محبت ہے اور نہ ہی خلوص
نظریں جھکا کر گزر جاتا ہوں میں پشیماں ہوکر
جو مطلب نہ ہو تو میں کون اور تم کون یاروں
ہو اگر مطلب تو ہر شخص ملتا ہے قدرداں ہوکر
ہم بھی اس دور کی رنگینیوں میں گم ہو جاتے
فکر آخرت نے سنبھالا دیا ہم کو بس مہرباں ہوکر
اچھے دور کی اچھی یادیں زندہ رہیں یوسف
جو بچا ہے وقت وہ گزاردو یہاں بس مہماں ہوکر
محمد یوسف میاں برکاتی








