- Advertisement -

Wo Kon Hay Jo Pas-e-Chashm

An Urdu Ghazal By Abbas Tabish

وہ کون ہے جو پس چشم تر نہیں آتا

سمجھ تو آتا ہے لیکن نظر نہیں آتا

اگر یہ تم ہو تو ثابت کرو کہ یہ تم ہو

گیا ہوا تو کوئی لوٹ کر نہیں آتا

یہ دل بھی کیسا شجر ہے کہ جس کی شاخوں پر

پرندے آتے ہیں لیکن ثمر نہیں آتا

یہ جمع خرچ زبانی ہے اس کے بارے میں

کوئی بھی شخص اسے دیکھ کر نہیں آتا

ہماری خاک پہ اندھی ہوا کا پہرہ ہے

اسے خبر ہے یہاں کوزہ گر نہیں آتا

یہ بات سچ ہے کہ اس کو بھلا دیا میں نے

مگر یقیں مجھے اس بات پر نہیں آتا

نظر جمائے رکھوں گا میں چاند پر تابشؔ

کہ جب تلک یہ پرندہ اتر نہیں آتا

عباس تابش

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Abbas Tabish