آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمنیر جعفری

ہر طرف ریت کا اجارا ہے

ایک اردو غزل از منیر جعفری

ہر طرف ریت کا اجارا ہے
یعنی صحرا میں بھی خسارا ہے

رہ گئے ہیں ہم آدھے شاخوں پر
اس نے یوں کھینچ کر اتارا ہے

پاؤں دھو جا ہماری مٹی پر
ان زمینوں کا پانی کھارا ہے

ہم پڑے رہ گئے ہیں تہہ میں کہیں
آپ نے خود کو یوں نتھارا ہے

جان پر بن گئی ہے خوشبو کی
تو نے گلدان کیا سنوارا ہے

آئنہ قحط میں ہوا ایجاد
خود پرستی کا استعارا ہے

وقت کے بھاؤ بڑھ گئے ہیں منیر
زندگی کا عجب گزارا ہے

منیر جعفری

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button