آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہ محمود جامؔیشعر و شاعری

ہم نے دشتِ شوق میں یوں

شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل

ہم نے دشتِ شوق میں یوں بھی شب گزاری کی
کشتِ ہجرِ یار کی خوں سے آبیاری کی

حسنِ عینِ حسن ہے بے نیاز و بے عِناں
قرضِ عشقِ یار میں ہم نے زخمِ کاری کی

یہ اصولِ عشق ہے خُسرَوی ملے اسے
راہِ ذوق و شوق میں جس نے خاکساری کی

اضطرابِ شوق نے سرخروئے جاں کِیا
دل نے آہ ضبط کی ہم نے آنکھ بھاری کی

لوحِ عشق پر رَقَم نقشِ یار کر دیا
خوب نقشِ ثبت کی دل نے پاسداری کی

یوں سَفَر کا حق ادا راہِ یار میں کِیا
خوں رگوں کا سینچ کر رسمِ راہداری کی

وہ نظر نہ پائے گی لطفِ حسنِ جاوداں
قلبِ رُوسِیاہ سے جس نے پائداری کی

اب سرشکِ سرخ سے تر ہے روئے شرمگیں
کچھ تو آنکھ نے ادا رسمِ شرمساری کی

اے دلِ ستم زدہ رک ذرا سکوں طلب
آخری گھڑی ہے یہ جاں میں خلفشاری کی

جامؔیِ حزیں اُسے جاں خراج کیجئے
جس نے راہِ عشق میں رسمِ خون جاری کی

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان

post bar salamurdu

شاہ محمود جامؔی

نام ، راشد محمود - قلمی نام ، شاہ محمود جامؔی - قبیلہ ، بَنی ہاشم - تعلیم ، ایم اے اسلامیات - پیشہ ، درس و تدریس - تاریخ پیدائش ... 28.09.1980 - جائے پیدائش ... وڈیانوالہ سیالکوٹ پنجاب - ساکن ، وڈیانوالہ - سیالکوٹ پنجاب پاکستان -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button