آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی

سعید شارق کی ایک اردو غزل

دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی
میں تماشا بھی ہوں اور اس کا تماشائی بھی

کون سمجھے مری آبادی و ویرانی کو
جھیل کی سطح پہ کشتی بھی ہے اور کائی بھی

قفس وصل میں سب شور ہمارا تو نہیں
پھڑپھڑاتا ہے بہت طائر تنہائی بھی

اب اداسی کسی دیرینہ نشے کے مانند
میری کمزوری بھی ہے اور توانائی بھی

کتنی لہریں تھیں جو مشترکہ تھیں ہم دونوں میں
سو ترے ساتھ ہوئی کم مری گہرائی بھی

اب میں کانوں پہ رکھوں ہاتھ کہ آنکھوں پہ رکھوں
شور اتنا ہے کہ لے جائے گا بینائی بھی

بانسری کی وہی آواز سناتے ہیں مجھے
ڈھول بھی پیانو بھی سارنگی بھی شہنائی بھی

میں نے تحفے میں نئے رنج کی چادر شارقؔ
صرف لائی ہی نہیں خود اسے پہنائی بھی

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button