آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے

سعید شارق کی ایک اردو غزل

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے
یہ موج روز نئی داستان گھڑتی ہے

لگے رہیں گے کہاں تک سکوت کے خیمے
وہ شور ہے کہ طناب صدا اکھڑتی ہے

سلگ رہا ہے کسی سبز آگ میں وہ شجر
جو ٹہنیوں کو ہلاؤں تو راکھ جھڑتی ہے

لپکتے ہیں انہی شانوں کو ڈھونڈتے دھاگے
پڑے پڑے ہی کہیں کوئی شال ادھڑتی ہے

بہت گھنا ہی سہی نخل خواب کا سایہ
مگر یہ دھوپ جو چاروں طرف سے پڑتی ہے

یہ باغ دل ہے یہیں اک اداس شہزادی
گلاب توڑتی ہے تتلیاں پکڑتی ہے

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button