آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحبوب صابر

کبھی وہ خواب، کبھی ہاتھ

ایک غزل از محبوب صابر

کبھی وہ خواب، کبھی ہاتھ کا ستارہ ہُوا
وہ اجنبی تھا مگر پھر بھی وہ ہمارا ہُوا
وہ زعفرانی بدن، سطوتِ جمالِ جہاں
ہمارا عِشق ہُوا، دل کا استعارہ ہُوا
تُجھے چُھوا تو مِرے ہاتھ پُھول بنتے گٸے
میں سَر تا پا تیری خُوشبو سے تھا نِکھارا ہُوا
وہ اِک صحیفے کی صُورت حسیں بدن تھا جو
فلک سے میرے لٸے، مُجھ پہ تھا اُتارا ہُوا
نسیمِ جاں نے بہت حوصلے دیے مُجھ کو
وگرنہ میں تھا محبت کا کھیل ہارا ہُوا
مِرے وجود میں کُھلتے گٸے کٸ منظر
وہ حُسن جب سے مِری آنکھ کا نظارہ ہُوا
درِ جہانِ وفا کُھل ہی جاۓ گا محبوب
تِری طرف سے مُجھے جب کبھی اِشارہ ہُوا

محبوب صابر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button