شہادتِ مولا علیؓ اور پیغامِ عدل
نعمان علی بھٹی کی ایک اردو تحریر
اکیس رمضان المبارک اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک اور اہم دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب اسلام کی عظیم شخصیت، خلیفۂ چہارم اور دامادِ رسول ﷺ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپؓ کی شہادت نے امتِ مسلمہ کو گہرے غم میں مبتلا کر دیا اور تاریخ میں ایک ایسا باب رقم ہوا جسے ہمیشہ دکھ اور احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔
حضرت علیؓ نہ صرف رسول اکرم ﷺ کے قریبی رشتہ دار تھے بلکہ آپؓ اسلام کے ابتدائی ماننے والوں میں بھی شامل تھے۔ بچپن ہی سے آپؓ نے اسلام کو قبول کیا اور اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپؓ کی محبت، وفاداری اور قربانیوں کی مثال تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔
اسلام کے ابتدائی دور میں جب مسلمان شدید مشکلات اور آزمائشوں سے گزر رہے تھے تو حضرت علیؓ ہر موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہے۔ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر جب کفارِ مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچانے کی سازش کی تو حضرت علیؓ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حضور ﷺ کے بستر پر لیٹ کر ایک عظیم قربانی کی مثال قائم کی۔
حضرت علیؓ اپنی بہادری اور شجاعت کے باعث بھی بہت مشہور تھے۔ غزوہ بدر، غزوہ احد اور خصوصاً غزوہ خیبر میں آپؓ کی بہادری کے واقعات اسلامی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ غزوہ خیبر میں جب مسلمان سخت مشکلات کا سامنا کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ اگلے دن یہ جھنڈا حضرت علیؓ کو دیا گیا اور آپؓ نے شجاعت کے ساتھ قلعہ خیبر فتح کیا۔
حضرت علیؓ علم و حکمت کے بھی ایک عظیم سرچشمہ تھے۔ آپؓ کے اقوال اور خطبات میں دانائی، انصاف اور انسانیت کا درس ملتا ہے۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ انسان کی اصل قدر اس کے کردار اور اخلاق میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ کے اقوال آج بھی دنیا بھر میں حکمت اور دانش کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔
جب حضرت علیؓ مسلمانوں کے خلیفہ بنے تو آپؓ نے اپنی حکومت کی
بنیاد عدل اور انصاف پر رکھی۔ آپؓ کی عدالت میں امیر و غریب، طاقتور اور کمزور سب برابر تھے۔ آپؓ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ معاشرے کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد کو انصاف ملے۔
آپؓ کی زندگی سادگی، تقویٰ اور دیانت داری کی مثال تھی۔ خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود آپؓ کی زندگی میں تکلف یا شاہانہ انداز نہیں تھا۔ آپؓ ہمیشہ عوام کے مسائل کو ترجیح دیتے اور ان کی فلاح کے لیے کوشش کرتے تھے۔
اکیس رمضان المبارک کو مسجد کوفہ میں نمازِ فجر کے وقت ایک خوارج شخص نے آپؓ پر قاتلانہ حملہ کیا جس کے نتیجے میں آپؓ زخمی ہوئے اور بعد ازاں اسی زخم کی وجہ سے شہادت کا رتبہ پایا۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ کے سب سے افسوسناک واقعات میں شمار ہوتا ہے۔
حضرت علیؓ کی شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق اور انصاف کے راستے پر چلنے والے لوگوں کو اکثر سخت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر ان کا کردار اور پیغام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ آج بھی حضرت علیؓ کا نام عدل، بہادری اور علم کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔
آج کے دور میں جب معاشرے میں ناانصافی، نفرت اور اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں تو حضرت علیؓ کی سیرت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگر ہم ان کے عدل، برداشت اور انسانیت کے اصولوں کو اپنی زندگیوں میں اپنائیں تو ایک بہتر اور پرامن معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
حضرت علیؓ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اصل عظمت طاقت یا دولت میں نہیں بلکہ سچائی، انصاف اور اعلیٰ کردار میں ہوتی ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو انسان کو تاریخ میں زندہ رکھتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سیرت سے سبق حاصل کرنے اور ان کے عدل و انصاف کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی








