آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

دل میں اترے نہ اداسی سے بھری کہلائے

سعید شارق کی ایک اردو غزل

دل میں اترے نہ اداسی سے بھری کہلائے
کوئی تو شام ہو ایسی جو نئی کہلائے

ایک آواز جو آنکھوں کے لیے چشمہ ہو
ایک احساس جو ہاتھوں کی چھڑی کہلائے

ہندسے سوئیاں پھر میری کلائی پہ کھنچیں
وقت دونوں کا گھڑی صرف تری کہلائے

اک نظر ہی میں اسے دیکھ لیا ہے اتنا
آنکھ خالی بھی اگر ہو تو بھری کہلائے

داستاں بنتی گئی دیو میں ڈھلتا گیا میں
اس کی خواہش تھی کہ وہ خود بھی پری کہلائے

دل میں اڑتا یہ اداسی کا پرندہ شارقؔ
شاخ لب پر کبھی بیٹھے تو ہنسی کہلائے

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button