- Advertisement -

دوستی میں حِساب کی باتیں ؟

شہناز رضوی کی ایک اردو غزل

دوستی میں حِساب کی باتیں ؟
واہ عالی جناب کی باتیں

اتنا آسان تو نہیں ہے نا
بھُول جانا جناب کی باتیں

جو نہ رکھتے ہوں کوئی ذوق و شَوق
اُن سے کیا ہوں کتاب کی باتیں

رہنے بھی دیجئے ، نہ کیجے اب
گیت ، خوشبو ، شباب کی باتیں

جو پھنسے ہوں گُناہ کی دَلدَل میں
کیا ہوں اُن سے ثواب کی باتیں

وہ نہ سمجھے ہیں اور نہ سمجھیں گے
اُس خُدا کے عِتاب کی باتیں

رِند کرتے ہیں کیوں سدا “شہناز“
بس شراب و کباب کی باتیں

 شہناز رضوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شہناز رضوی کی ایک اردو غزل