اردو غزلیاتشاہد ماکلیشعر و شاعری

قباحت ایسی بھی کیا ہے

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

قباحت ایسی بھی کیا ہے نظر نہ آنے میں
کہ دن گزار دیں لوگوں سے منہ چھپانے میں

کھڑے ہوئے تھے کہیں وقت کے کنارے پر
پھسل کے جا گرے اک اور ہی زمانے میں

تو اتنے فالتو ہو جاتے ہیں یہ خواب اک دن
کہ پھینک دیتے ہیں ان کو کباڑ خانے میں

یہ ایک عمر میں جانا یقینی کچھ بھی نہیں
بقایا عمر کٹی پھر یقیں دلانے میں

نکل نہ پاتے غموں کے غذائی جال سے ہم
جو خود کفیل نہ ہوتے فریب کھانے میں

مشین دیکھتی ہے سوچتی ہے بولتی ہے
ہمارا آپ کا اب کام کیا زمانے میں

دبی ہوئی تھی کہیں لا شعور میں شاہدؔ
لگا ہے وقت اداسی کو باہر آنے میں

شاہد ماکلی

post bar salamurdu

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button