- Advertisement -

خدائی کا نہیں پوچھا گیا کہ ڈھب کیا ہے

عمران سیفی کی اردو غزل

خدائی کا نہیں پوچھا گیا کہ ڈھب کیا ہے
سوال غور سے پڑھیےلکھا ہے رب کیا ہے

سراب دھوپ سے بنتے ہیں شام سے منظر
چراغ بیچنے والے سے پوچھ شب کیا ہے

پکارتا ہے کوئی پھر نئے دریچوں سے
میں گاؤں چھوڑ تو آیا ہوں دوست اب کیا ہے

یہ تو نے کمرے کا کیا حال بنا رکھا ہے
یہ عشق رنج یہ وحشت سبو یہ سب کیا ہے

اب آنکھ اشک سے بیزار ہے تو کیا کیجے
کہ اس بہاؤ کا کیوں جانیئے سبب کیا ہے

عمران سیفی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عمران سیفی کی اردو غزل