- Advertisement -

پھر الجھنوں میں عجب دِل کا حال ہونا ہے

شازیہ اکبر کی اردو غزل

پھر الجھنوں میں عجب دِل کا حال ہونا ہے
بچھڑ کے تجھ سے بھی تیرا خیال ہونا ہے
ٹھہر گیا ہے جو لمحہ ہماری یادوں میں
اُس ایک لمحے کو جیون کا سال ہونا ہے
ترے فراق کی گھڑیوں میں بھی بہل جاتے
یقیں جو ہوتا کہ تیرا وصال ہونا ہے
اُتر گئے جو مرے دِل میں پیار کے مو سم
گزر گئے تو غضب کا ملال ہونا ہے
جہاں میں سارے گناہوں کا اِک بہانہ ہے
تری جفا کو بھی تاروں کی چال ہونا ہے
ہمی نے آ کے بڑھائی ہے دار کی رونق
ہمی نے اپنی بقا کی مثال ہونا ہے

شازیہ اکبر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شازیہ اکبر کی اردو غزل