- Advertisement -

تین اور تین سو

شہزاد نیّرؔ کی ایک اردو نظم

تین اور تین سو

عورتیں

رقص کرتی ہوئی عورتیں

رات آنکھوں سے ہو کر گزرتی ہوئی

تیز سازوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے

دم بہ دم، خم بہ خم

محوِ نغمہ سماعت لرزتی ہوئی

گھومتے، جھومتے، زاویے، دائرے ، قوس بنتے بدن

رقص کے ایک اک بھاءو کا

دردِ تخلیق سہتی ہوئی عورتیں !

آدمی

تین جسموں کو تکتے ہوئے

تین سو زر بکف آدمی

ساری آنکھیں اُن آنکھوں میں ہیں

جو فقط زر کے منظر میں ہیں

رقص دو رُخ پہ چلنے لگا

تال بٹنے لگی

کوئی دل کے، کوئی زر کے ٹھیکے پہ تھا

ناچتے، مست ہوتے ہوئے آدمی!

منتظر عورتیں

رات آنکھوں سے ہو کر گزرتی ہوئی

ہجر بستر پہ پہلو بدلتے ہوئے

کربِ تنہائی سہتی ہوئی عورتیں

تین سو عورتیں !

شہزاد نیّرؔ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شہزاد نیّرؔ کی ایک اردو نظم