آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم احسان بٹ

جلتا ہوں تو سینے میں دھواں ہے

کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل

جلتا ہوں تو سینے میں دھواں ہے تو سہی ہے
میں خوش ہوں کہ اک طرزِ فغاں ہے تو سہی ہے

ہر ظلم پہ خاموش ہے مخلوق خدا کی
دیکھو تو ذرا منہ میں زباں ہے تو سہی ہے

اس شخص کا گر طرۂ دستار ملا لیں
اک شخص مرے قد کا یہاں ہے تو سہی ہے

پوچھا ہے تو کس طور نہ اب اس کو بتائیں
اس دل میں کوئی دردِ نہاں ہے تو سہی ہے

ہر بار میں لشکر سے اکیلا ہی لڑا ہوں
کہنے کو مرے ساتھ جہاں ہے تو سہی ہے

کچھ ہے جو مری فوج کے سالار میں کم ہے
سب تیغ و تفنگ، تیر و سناں ہے تو سہی ہے

ہر چند فنا ہونا ہے قسمت میں سبھی کی
دنیا میں مرا نام و نشاں ہے تو سہی ہے

پھر حسنِ مجسّم میں بدل جاتے ہیں منظر
اس عشق میں اک دل کا زیاں ہے تو سہی ہے

ماتھے پہ چمکتے ہوئے سجدوں کے نشاں ہیں
اک داغ ندامت کا میاں ہے تو سہی ہے

گر خواب ہے یہ، خواب کی تعبیر بھی ہو گی
ایسا ہے تو پھر وہم و گماں ہے تو سہی ہے

اجداد سے ورثے میں ملی ہے یہ غلامی
یہ طوقِ گلو بارِ گراں ہے تو سہی ہے

کلیم احسان بٹ

post bar salamurdu

کلیم احسان بٹ

کلیم احسان بٹ جلا لپور جٹاں ضلع گجرات میں 5 دسمبر 1964 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام احسان اللہ بٹ تھا۔ آپ نے اپتدائی تعلیم جلال پور جٹاں میں حاصل کی۔ ایم اے گورنمنٹ زمیندار کالج گجرات سے کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آپ کی اب تک سات کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے تین شاعری کی ہیں۔ تفصیل حسب ذیل ہے 1۔گجرات میں اردو شاعری۔گجرات کی 444سالہ علمی و ادبی تاریخ 2۔ موسم گل حیران کھڑا ہے شاعری 3۔ ابر رحمت جلد اول تحقیق 4۔ ابر رحمت جلد دوم تحقیق 5۔ چلو جگنو پکڑتے ہیں شاعری 6۔ تفہیم و تحسین تنقیدی مضامین 7۔ حیرت باقی رہ جاتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button