جلتا ہوں تو سینے میں دھواں ہے
کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل
جلتا ہوں تو سینے میں دھواں ہے تو سہی ہے
میں خوش ہوں کہ اک طرزِ فغاں ہے تو سہی ہے
ہر ظلم پہ خاموش ہے مخلوق خدا کی
دیکھو تو ذرا منہ میں زباں ہے تو سہی ہے
اس شخص کا گر طرۂ دستار ملا لیں
اک شخص مرے قد کا یہاں ہے تو سہی ہے
پوچھا ہے تو کس طور نہ اب اس کو بتائیں
اس دل میں کوئی دردِ نہاں ہے تو سہی ہے
ہر بار میں لشکر سے اکیلا ہی لڑا ہوں
کہنے کو مرے ساتھ جہاں ہے تو سہی ہے
کچھ ہے جو مری فوج کے سالار میں کم ہے
سب تیغ و تفنگ، تیر و سناں ہے تو سہی ہے
ہر چند فنا ہونا ہے قسمت میں سبھی کی
دنیا میں مرا نام و نشاں ہے تو سہی ہے
پھر حسنِ مجسّم میں بدل جاتے ہیں منظر
اس عشق میں اک دل کا زیاں ہے تو سہی ہے
ماتھے پہ چمکتے ہوئے سجدوں کے نشاں ہیں
اک داغ ندامت کا میاں ہے تو سہی ہے
گر خواب ہے یہ، خواب کی تعبیر بھی ہو گی
ایسا ہے تو پھر وہم و گماں ہے تو سہی ہے
اجداد سے ورثے میں ملی ہے یہ غلامی
یہ طوقِ گلو بارِ گراں ہے تو سہی ہے
کلیم احسان بٹ








