آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفوزیہ شیخ

جنموں کی داستاں ہے

فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل

جنموں کی داستاں ہے یہ عمروں کا میل ہے
کس نے کہا ھے دوستی رنگوں کا کھیل ہے ؟

انساں ترے نصیب کی گندم نہ اگ سکی
سونا پہاڑ میں کہیں صحرا میں تیل ہے ۔

وہ دکھ بھی دے تو کر نہیں سکتی اسے جدا
لپٹی ہوئی بدن سے یہ آکاس بیل ہے

نایاب ھے وفا کہیں بحران ِ مخلصی ۔
ویسے قدم قدم پہ محبت کی سیل ھے ۔

ہمت نہیں تو دل کو ہتھیلی پہ مت سجا ۔
بزدل تو امتحان میں ویسے ہی فیل ھے ۔

حاصل ہوئی تو چیز کی وقعت نہیں رہی
جس گھر میں قید ہوں کسی رشتے کی جیل ھے

اک تم ہی لوٹ کر کبھی واپس نہ آ سکے
ہر دن تمہارے شہر سے آتی تو ریل ہے

فوزیہ شیخ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button