اردو نظمسرفراز آرششعر و شاعری

جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں

آرش کی ایک اردو نظم

جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں

دن بدلتے نہیں

رات کٹتی نہیں

زندگی بیت جاتی ہے لیکن گزرتی نہیں

جس طرح سرد راتوں میں تاریک رستوں پہ دھند ایسے چھا جاتی ہے
راہ گیروں کی آنکھیں ہی کھا جاتی ہے

جس طرح کوئی دن گرمیوں کی سلگتی ہوئی دوپہر یوں ٹھہر جاتی ہے
جیسے مغرب کی سمت اس جہاں میں ابھی تک بنی ہی نہ ہو

جس طرح کچھ بھی, کیسا بھی, کتنا بھی ہو جاتا ہے

جس طرح سب سمجھ کر بھی ہم سب سمجھتے نہیں

بالکل ایسے ہی اس سال کے اک مہینے میں میری گھڑی رک گئی
وقت چلتا رہا.۔….. یہ چلی ہی نہیں

اس لیے یہ برس اب کبھی ختم ہونا نہیں

آرش

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button