- Advertisement -

ترے حضور ہوں، فکر حیات ہے پھر بھی

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ترے حضور ہوں، فکر حیات ہے پھر بھی
مرے لبوں پہ زمانے کی بات ہے پھر بھی

اگرچہ اس میں تری کوششیں بھی شامل ہیں
یہ کائنات مری کائنات ہے پھر بھی

کہاں حقیقت جلوہ، کہاں فریب شرار
ہزار شمعیں جلیں رات رات ہے پھر بھی

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل