آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعرینگار فاطمہ انصاری

محبوب محبت سے نہیں قسمت سے

نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل

محبوب محبت سے نہیں قسمت سے ملا کرتا ہے
یہ وہ نایاب ہے جو بڑی اجرت سے ملا کرتا ہے

اور میں نے جن پر جان لوٹائیں تھی کبھی
اب میرا ہر وہ دوست ضرورت سے ملا کرتا ہے

شہزادی داستانیں غم پر غور کیوں کرتی
یہ وہ دکھ ہے جو غربت سے ملا کرتا ہے

کوئی تو فعال نکال میرے زخموں کی
اس شہر میں چارہگر بھی فرقت سے ملا کرتا ہے

خاک اتری ہے اب میرے دست ہنر میں
ہجر کے بعد دل، ہر غم سے فرصت سے ملا کرتا ہے

نگار فاطمہ انصاری

post bar salamurdu

نگار فاطمہ انصاری

نگار فاطمہ انصاری قلمی نام ہے ۔ تعلق یوپی کے مرادآباد ضلع سے ہے - اور 2024 میں شاعری کی دنیا میں قدم رکھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button