آپ کا سلاماردو غزلیاتافتخار شاہدشعر و شاعری

دیکھا نہیں جاتا مرے سردار تماشا

افتخار شاہد کی ایک غزل

دیکھا نہیں جاتا مرے سردار تماشا
تم نے جو لگا رکھا ہے بیکار تماشا

کہنے کو مرے پرسشِ احوال کی خاطر
آتے ہیں لگانے مرے غم خوار تماشا

یہ لوگ تماشا ہیں تماشائی نہیں ہیں
یہ سارے خریدار، دکاں دار تماشا

یہ سانس کا اٹکا ہوا خنجر ہی نکل جائے
لازم ہے چلے آج لگاتار تماشا

کل شب بھی تماشے میں کوئی جان نہیں تھی
اور آج بھی مشکل سے ہے دو چار تماشا

اس پار بھی کیا ایسا ہی دستور ہے نافذ
ساقی ہے تماشائی تو میخوار تماشا

ہنستے ہوئے جوکر کی اگر سانس اکھڑ جائے
کہنا کہ ہوا آج ثمربار تماشا

یہ کارِ تماشا بھی ہمہ گیر ہے شاہد
اِس پار تماشا ہے تو اُس پار تماشا

افتخار شاہد

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button