آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

ممکن نہیں حالات کی سولی

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

ممکن نہیں حالات کی سولی نہ چڑھی ہو
جو بات انوکھی بھی ہو کڑوی ہو کھری ہو

قدرت کے نظاروں کو اگر دیکھنے جائیں
ناران ہو کاغان ہو, کالام , مری, ہو

بد ذوق نگاہوں کے تعاقب سے پریشاں
بس آخری ہو لڑکی اکیلی ہو , ڈری ہو

مہ کش پہ اثر الٹا کرے مہ کی اداسی
حیرت بھی ہو مستی بھی ہو اور اپنی پڑی ہو

مر جائے ترا ہجر گلابوں سے لپٹ کر
خوشبو ہو گھٹن رنج ہو وحشت کی گھڑی ہو

سرکار مرے گھر کبھی تشریف جو لائیں
تو ساتھ میں حسنین ہوں زہراء ہو, علی ہو

تعبیر کسی خواب کی الجھن سے الجھتی
دیوار ہو تصویر ہو آنکھیں ہوں نمی ہو

اک یاد ہتھیلی پہ کوئی روگ ابھارے
اک آگ ہو اور دھیمی ہو روٹی ہو جلی ہو

ہو بارِ سماعت مجھے زنحیر کا گریہ
صحرا ہو اذیت ہو مسافت ہو کڑی ہو

دنیا میں کوئی اور خدا ہے تو بتا جو
خالق بھی ہو , رازق بھی ہو , مالک ہو , غنی ہو

کچھ بھی ہو مگر کم ہو گوارہ نہیں ارشاد
نفرت ہو, محبت ہو, مصیبت ہو, بڑی ہو

ارشاد نیازی

post bar salamurdu

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button