آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحمد نعیم

تماش گاہ میں دیکھو

محمد نعیم کی اردو غزل

تماش گاہ میں دیکھو کہیں اجل تو نہیں
ہیں آج ہم تو’ ہماری جگہ یہ کل تو نہیں

سُنا ہے مرنے سے پہلے دو بوند مانگتے ہیں
یہاں ہمارے لیے اردگرد جَل تو نہیں

ہجوم! زخم یہ دل کے دکھائیں کس کو یہاں
یوں رکھتے تو کسی بھی طور کوئی بل تو نہیں

یہ لوگ کیوں نہ مدد کرنے آئے ہیں یہاں تک
یوں لگ رہا ہے وہ ہاتھ پاؤں شل تو نہیں

اے کاتبِ ازلی یوں ہی ہم پھسل رہے ہیں
ہمارے اب قدموں کے ہی نیچے زل تو نہیں

محمد نعیم

post bar salamurdu

محمد نعیم

مکمل نام:محمدنعیم- تخلص و قلمی نام:نعیم- جائے پیدائش: سیالکوٹ- تعلیم: بی ایس (سی ایس)، ایم بی اے (مارکیٹنگ & ہیومن ریسورس مینجمنٹ)- پیشہ : ٹیلی کام - ریجنل مینیجر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button