تماش گاہ میں دیکھو کہیں اجل تو نہیں
ہیں آج ہم تو’ ہماری جگہ یہ کل تو نہیں
سُنا ہے مرنے سے پہلے دو بوند مانگتے ہیں
یہاں ہمارے لیے اردگرد جَل تو نہیں
ہجوم! زخم یہ دل کے دکھائیں کس کو یہاں
یوں رکھتے تو کسی بھی طور کوئی بل تو نہیں
یہ لوگ کیوں نہ مدد کرنے آئے ہیں یہاں تک
یوں لگ رہا ہے وہ ہاتھ پاؤں شل تو نہیں
اے کاتبِ ازلی یوں ہی ہم پھسل رہے ہیں
ہمارے اب قدموں کے ہی نیچے زل تو نہیں
محمد نعیم








