آپ کا سلاماردو غزلیاتثوبیہ راجپوتشعر و شاعری
دل کے جذبات کو تُو رونقِ صحرا نہ بنا
ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
دل کے جذبات کو تُو رونقِ صحرا نہ بنا
قیس لیلٰی کا سرِ بزم تماشا نہ بنا
سانس رک جائے گی ، امید اگر ٹوٹ گئی
میری ہستی کو کتابوں کا فسانہ نہ بنا
آتشِ ہجر مجھے خاک بنا سکتی ہے
دور رہنے کا ابھی کوئی ارادہ نہ بنا
وصل کے لمحے فقط خواب ہی رہ جاتے ہیں
میرے ارمان کو دریا کا کنارہ نہ بنا
تیرگی رات کے لمحوں میں اُجالا کر دے
میرے ہر اشک کو تُو قیمتی ہیرا نہ بنا
ثوبیہ ہجر کی ساعت بھی قیامت سی ہے
میری حالت کو مزید اور بُریدہ نہ بنا
ثوبیہ راجپوت








