آپ کا سلاماردو غزلیاتثوبیہ راجپوتشعر و شاعری

دل کے جذبات کو تُو رونقِ صحرا نہ بنا

ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل

دل کے جذبات کو تُو رونقِ صحرا نہ بنا
قیس لیلٰی کا سرِ بزم تماشا نہ بنا

سانس رک جائے گی ، امید اگر ٹوٹ گئی
میری ہستی کو کتابوں کا فسانہ نہ بنا

آتشِ ہجر مجھے خاک بنا سکتی ہے
دور رہنے کا ابھی کوئی ارادہ نہ بنا

وصل کے لمحے فقط خواب ہی رہ جاتے ہیں
میرے ارمان کو دریا کا کنارہ نہ بنا

تیرگی رات کے لمحوں میں اُجالا کر دے
میرے ہر اشک کو تُو قیمتی ہیرا نہ بنا

ثوبیہ ہجر کی ساعت بھی قیامت سی ہے
میری حالت کو مزید اور بُریدہ نہ بنا

ثوبیہ راجپوت

post bar salamurdu

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت پاکستان کے شہر سیالکوٹ کینٹ، اُورا میں 7 اپریل کو پیدا ہوئیں۔ ثوبیہ راجپوت نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ بطور شاعرہ، نعت گو شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار ،پنجابی اور اردو کی شاعری میں اپنی منفرد پہچان بناچکی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات میں افسانوی مجموعہ "وجود شب" شامل ہے، جس میں انہوں نے مشاہدات و تجربات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا نعتیہ مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے جبکہ متعدد انتھالوجیز شائع ہو چکی ہیں۔ معاون ایڈیٹر: برج میڈیا یو ایس اے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button