- Advertisement -

ہائے یہ خُود ساختہ معیارات

ایک اردو کالم از محبوب صابر

ہائے یہ خُود ساختہ معیارات

 

اقوامِ عالم کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی نظریہ ، روائت یا فلسفہ کسی بھی معاشرے میں ہمیشہ مستعمل نہیں رہتا- خواہ وہ مذہبی رسومات ہی کیوں نہ ہوں ہر بدلتے عشرے کیساتھ اُن میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور یہی مستقل ردو بدل تقریبا” ہر آدھی صدی کے بعد یکسر نئی صورت اختیار کر لیتا ہے- وہ عزت کے معیارات ہوں، رشتوں کی تقدیس اور حُرمت کے متعلق رواجات ہوں، رہن سہن کی عادات ہوں یا پھر معاشرتی رکھ رکھاؤ کا مروجہ طریقئہ کار ہو یکسر بدل جاتے ہیں- اسے ہی تہذیب کے ارتقاء سے موسوم کیا جاتا ہے- قدیم یونان کی ریاستوں میں جب طب اور فلسفہ اپنی ارتقائی منازل طے کر رہا تھا تواُس وقت کے طاقتورترین طبقہ نے عام فہم رکھنے والے شہریوں کو خُدا، مذہب، تجارت، سیاست اور معاشرتی رسومات کے ایسے معیارات متعارف کروا دیے کہ جو اُن کیلئے سود مند تھے یا جن کے نفاز سے جبرو استبداد اور مطلق العنانیت کا استحکام ضروری تھا- اور پھر جب کسی فطری طور پر ودیعت کئے ہوئے باشعور انسان نے اس ظلم ، جبر اور غیر منطقی مذہبی استحصال کے خلاف علمِ بغاوت بُلند کیا تو کسی کو زہر کا پیالہ پینا پڑا، کوئی مصلوب ہوا تو کسی کو سَر تن سے جُدا کروانا پڑا۔ ایک زمانہ تھا کہ سائنسی ایجادات سے پہلے چرچ کو کرہ ارض پر سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا اور یہ تصورعام تھا کہ آسمانی آفات باالخصوص آسمان سے گرنے والی بجلی چرچ کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے سکتی اور پھرجب زمین میں ارتھ لگا کر کچھ زہنی طور پر جاگتے لوگوں نے چکلوں اور اُس وقت کے خیال کے مطابق گناہ کی جگہوں کو اس سے محفوظ کر لیا تو انقلابِ فرانس جیسا بڑا معجزہ رونما ہوا جس نے اقوامِ عالم کی مذہبی ہیئت کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا- کل کی بات ہے کہ باپ کی چارپائی پر بیٹھنا انتہائی بدتمیزی اور گستاخی تصور کیا جاتا تھا اور آج باپ کے برابر بلکہ اُس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا بھی شائد کسی کو عجیب محسوس نہ ہوتا ہو بلکہ یہ عمل محبت اور عقیدت کی زریں دلیل سمجھا جاتا ہے- اسی طرح برصغیر میں حیا، احترام، پردہ اور آدابِ گفتگو جو آج سے دو عشرے پہلے تھے کہیں ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتے- ایسا نہیں اور نہ ہی میں ایسے نقطئہ نظر کا حامی ہوں کہ آج حیا یا طریقئہ احترام تنزلی کا شکار ہے بلکہ اِس کے برعکس دیکھا جائے تو کوئی نظریہ یا فلسفہ اُس وقت تک مقبولیت یا تکریم حاصل ہی نہیں کر سکتا جب تک وہ انسانی نفسیات کے عین مطابق نہ ہو، یا جسے قبول کرنے میں انسانوں کو اُکتاہٹ یا بیزاری سے نبردآزما ہونا پڑے- اگر آج سے آدھی صدی پہلے کے بازار، طرزِ تعمیر، زرائعِ آمدورفت، ترسیل اور روابط کا زریعہ، اندازِ معاشرت، عزت و تکریم کے معیارات،تقدیسِ معبد حتی کہ ویسا باپ اور ویسی ماں تک نہیں رہے تو یہ دو قدیم ترین اور متروک نظریات کیوں آج بھی مستعمل ہیں؟ ایک یہ کہ نوکر کو مالک کا ہر حال میں وفادار ہونا چاہیئے ، جس کا نمک کھاؤ اُس سے وفا کرو- حالانکہ ہر وہ شخص یا ادراہ جو کسی کو بھی ملازم رکھتا ہے وہ اُس کی صلاحیت اور محنت کی بدولت ہی تعیش اور راحت بھری پُر آسائش زندگی کا لطف لے رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ نظریہ استحصالی طبقہ کی بدمعاشیوں ، اُن کے مفادات کا تحفظ ، اُن کی انائی تسکین،حاکمیت پسندی اور انسانوں کو غلام رکھنے کی خواہش کا ترجمان تھا سواِس کو اتنا اُچھالا گیا کہ ملازم کو یہ سب حقیقت دکھائی دینے لگا اور وہ اِسی کی تقلید میں اپنی عزتِ نفس، رائے اور احترامِ آدمیت کے تمام تقاضے بُھلا بیٹھا اور نسل در نسل غُلامی ہی کو اپنا مقدر سمجھ کر استحصالی سوچ کے ہاتھ مظبوط تر کرنے لگا- اور ایسا ہی کچھ مذہبی ریاستوں کے حاکموں نے کیا کہ اپنی پسند کے فتاوی جات لینے کیلئے اُس وقت کے چند ضمیر فروش اور لالچی خود ساختہ علماء کو اپنے درباروں کی زینت بنایا جو اپنے اپنے عقیدے کی مذہبی کُتب کے حوالہ جات سے ایسے حکمرانوں کے ہاتھ مظبوط کرنے لگے- اور یہ بات اُن حالات میں صادق بھی آتی تھی کہ حکمرانوں نے ایسے علماء کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے ڈھال بنائے رکھا جس کی ایک بڑی مثال ہمارے مشترکہ ہندوستان میں آئینِ اکبری ہے۔ مگر اُس وقت نہ تو علم عام تھا اور نہ ہی باقائدہ تعلیمی اِدارے معرضِ وجود میں ائے تھے- لوگ نہ تو موازنہ کرنے کا ہُنر جانتے تھے اور نہ ہی اُن کے جُھوٹ کو جانچنے کیلئے کوئی واضع معیار موجود تھا- سو اُس وقت کا یہ نظریہ کہ علماء کو دربار سے دور رہنا چاہیئے سلیم العقلی اور دانشمندی کی علامت تھا۔ مگر اب جب نِصابی تعلیم اپنی رفعتوں کو چھو رہی ہے دُنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے جال بچھے ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر قرانِ حکیم اوراحادیث کی سبھی تصحیح کُتب موجود ہیں اورہم میں سے اکثریت کسی بھی واقع یا مذہبی روائت کو علقی معیارات اورعلمی استدلال پر جانچنے کی متمنی ہو تو اُس کیلئے رتی برابر بھی مشکل نہیں- اس لیئے جہاں دیگر بہت سی رسومات اوررواجات ، نظریات اور طریقئہ ہائے زندگی بدل چُکے ہیں ہمیں مالک نوکر کے تعلقات کا ازسرِ نوع جائزہ لینے کیساتھ ساتھ علماء کا اربابِ اقتدار کے ساتھ تعلق یا رشتے کو بھی نئے سرے سے دیکھنا ہوگا- جہاں ہماری آسانیاں ہیں اور ہمارے مفادات پنہاں ہیں وہاں تو روایات کا بدل جانا تہذیب اور علم کے ارتقاء سے تعبیر کیا جائے اور جہاں ہم براہِ راست کسی سہولت یا نظریے سے مستفید نہیں ہورہے وہاں صدیوں پُرانے متروک نظریات کا پرچار کر کے کسی کی زات پر کیچڑ اُچھالنا یا معتوب کرنا انتہائی ذہنی بددیانتی ہے جس کا ارتکاب کسی بھی باشعور اور انصاف پسند شخص کو ہرگز زیب نہیں دیتا البتہ اگر کوئی ایسا عالم، مفکر یا رہبرِدین کسی بھی ایسے نظریے کا پر چار کر رہاہو جسے علمی استدلال یا عقل کی کسوٹی پر نہ پرکھا جا سکے تو اُس کی تعظیم یا حیثیت متنازع ہو سکتی ہے
محبوب صابر
27 اپریل 2020 سیالکوٹ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عباس تابش کی ایک اردو غزل