- Advertisement -

سسکتے روتے ہزاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

صابر رضوی کی ایک اردو غزل

سسکتے روتے ہزاروں کو پیچھے چھوڑ گئی
وہ کیا ہوا تھی جو خاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

مرے چراغ سے پہنچی ہے آسمانوں تک
وہ روشنی جو ستاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

ہمارا عشق درختوں پہ منکشف ہوا ہے
ہماری آگ چناروں کو پیچھے چھوڑ گئی

اسے بھی شوق چرایا تھا بے حجابی کا
مری نظر بھی نظاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

پڑی ہوئی تھی جو مسجد کی سیڑھیوں کے قریب
وہ زندہ نعش مزاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

اٹھا کے لائے تھے جو پانچویں کو شانوں پر
حیات پھر انھی چاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

وصالِ یار کی اک خواہشِ حریصانہ
ہزار شکر گزاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

وہ اک لکیر جو کندہ تھی میرے ماتھے پر
نہ جانے کتنے شماروں کو پیچھے چھوڑ گئی

چمن اسی کے فسانوں سے ہو رہا ہے زرد
وہ غنچگی جو بہاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

ہوائے دشت میں چرچہ ہے ایک ناقہ کا
جو سارے شتر سواروں کو پیچھے چھوڑ گئی

علی صابر رضوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
لعل ڈنو شنبانی کا ایک اردو کالم