آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ڈیجیٹل دُنیا میں ہمارا کاغذی قافلہ

ایک اردو کالم از یوسف صدیقی

کسی بھی دفتر میں چلے جائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ کسی فٹنس سینٹر میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں مشینوں کے بجائے کمرے، فائلیں اور لمبے چکر آپ کی برداشت آزما رہے ہوتے ہیں۔ دنیا ڈیجیٹل دور میں بہت آگے نکل چکی ہے لیکن ہم اب بھی کاغذوں کے جال میں الجھے ہوئے ہیں۔

ہمارے دفاتر کی فضا یوں محسوس ہوتی ہے جیسے وقت کئی دہائیاں پہلے رُک گیا ہو۔ دیواروں پر مکھیاں بیٹھی ہیں، فائلوں پر گرد جمی ہے، اور اہلکار اس طرح گھورتے ہیں گویا آنے والا شخص ان کی قیلولہ میں مداخلت کرنے آگیا ہو۔ کوئی سا بھی کام، چاہے چند منٹ کا ہو، یہاں دنوں بلکہ ہفتوں کی آزمائش میں بدل دیا جاتا ہے۔

یہی وہ کاغذی نظام ہے جہاں ایک فائل میز سے دوسری میز تک ایسے سفر کرتی ہے جیسے شطرنج کا مہرہ۔ اور اگر یہ مہرہ کہیں رک جائے تو اسے آگے بڑھانے کے لیے یا سفارش چاہیے یا نذرانہ۔ یوں یہ نظام تاخیر اور کرپشن دونوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ فائلوں کی گرد اور ریکارڈ روم کی بو باس اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ہم جدید زمانے سے کتنے پیچھے رہ گئے ہیں۔

اگر کسی افسر کو تجویز دیں کہ یہ کام آن لائن ہونا چاہیے تو وہ ایسے چونک اٹھتا ہے جیسے آپ نے کوئی اجنبی زبان بول دی ہو۔ ہمارے ہاں ڈیجیٹل کا مطلب صرف اتنا ہے کہ کاغذ اسکین کر کے پی ڈی ایف بنا لی جائے۔ جبکہ دنیا مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ای-گورننس کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں محض ایک کلک پر لائسنس، شناختی کارڈ یا دیگر کاغذات کی تجدید ہو جاتی ہے، لیکن یہاں سب کچھ کاغذوں کے ڈھیر تلے دبا ہوا ہے۔

اس کاغذی غلامی کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ تاخیر پیدا کرتی ہے، تاخیر رشوت کو جنم دیتی ہے، اور رشوت اسی نظام کو زندہ رکھتی ہے۔ ہر دستخط، ہر مہر ایک نئے دروازے کی مانند ہے، اور ہر دروازہ کھولنے کے لیے یا تو سفارش درکار ہے یا رقم۔

حل بالکل واضح ہے: تمام سرکاری اور نجی اداروں کو فوری طور پر ڈیجیٹل فائلنگ اور آن لائن اپروول سسٹم پر منتقل ہونا چاہیے۔ ہر فائل کے ساتھ ایک ٹریکنگ کوڈ منسلک ہو تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ وہ کہاں رکی اور کس وجہ سے رکی۔ صرف اسی شفاف نظام کے ذریعے رشوت، سفارش اور "کل آنا” کے کلچر کا خاتمہ ممکن ہے۔

یہ معاملہ محض طنز کا نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ اگر ہم نے اس کاغذی غلامی سے آزادی حاصل نہ کی تو آنے والی نسلیں بھی انہی بوسیدہ فائلوں کے بوجھ تلے اپنی توانائیاں ضائع کرتی رہیں گی۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اس جنگل میں پھنسے رہیں یا ترقی کی ڈیجیٹل شاہراہ پر قدم رکھیں۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button