آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمر اشتر

رات کے وقت

ایک اردو غزل از عمر اشتر

یاد آتی ہے مجھے اُس کی وفا رات کے وقت
جس نے اللہ نگہباں تھا کہا رات کے وقت

جسم سے اٹھتی ہیں خاموش سی آوازیں بہت
روح جب ہوتی ہے ڈھانچے سے جُدا رات کے وقت

اشک کے ابر سے تھا سارا بدن تر مرا اور
غم کا مرکز تھا مرے دل میں سجا رات کے وقت

ہر طرف عشق و تصوّف کے مناظر ہوں گے
تُو کسی روز مرے کوچے میں آ رات کے وقت

ایک دو دن کی نہیں تیرے غمِ ہجر کی چوٹ
زخم ہو جاتا ہے یہ روز نیا رات کے وقت

تُو نے چاہا ہی نہیں سن لے خدا عرضی تری
تُو نے مانگی ہی نہیں کوئی دعا رات کے وقت

عمر اشتر

عمر اشتر

نام: عمر اشتر تاریخِ پیدائش: 02 ستمبر 2002ء والد کا نام: زوالفقار احمد دادا کا نام: نذیر حسین مذہب: اِسلام تحصیل و ضلع: سیالکوٹ ملک: پاکستان "تعارفی شعر" شدّتِ غم کو زرا کم تو وہ ہونے دیتی میں اگر رونے لگا تھا مجھے رونے دیتی زیرِ نگرانی مجھے رکھا ہوا ہے اُس نے وہ مجھے اور کسی کا نہیں ہونے دیتی ہجر میں ہوتے ہوئے وصلِ جنوں ڈھونڈتا ہوں کتنا پاگل ہوں اداسی میں سکوں ڈھونڈتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button