آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

جب پڑے آنکھ, ہاتھ, کنکر پر

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

جب پڑے آنکھ, ہاتھ, کنکر پر
فاختہ چیختی ہے کیکر پر

تیرے سینے میں ایک پتھر تھا
اور وہ پتھر لگا مرے سر پر

دل کی گلیوں میں ڈھونڈنا مجھکو
جب تجھے میں نہیں ملوں گھر پر

سبزگی پائمال کر دے گا
بدگمانی کا رنگ منظر پر

صبح تک خواب سے الجھتی ہے
مضطرب نیند شب کے بستر پر

سن رہا ہے سماعتوں کا ہجوم
شور و شر کی پکار منبر پر

منزلوں کی نظر جمی ہوئی ہے
ایک مدت سے راہ و رہبر پر

دیکھ لو پڑھ کے سورہ ء کوثر
یہ عیاں کب ہوئی ہے ابتر پر

آخری سانس لینے والی ہے
برتری ظلم ڈھاتی , کمتر پر

شور کرتی ہیں سر نگوں شاخیں
تیر کھینچا گیا ہے تیتر پر

ہجر کی داستاں سنائے گا
پھول مرجھایا تیرے کالر پر

سب سے پہلے شہید ہوتا ہے
نام لکھا ہو جس کا آخر پر

شعر کہنا محال ہے , یوں ہے
بھوک حملہ کیا ہے شاعر پر

آپ تو کلمہ گو ہو , ڈر کیسا
ظلم ڈھاتا نہیں وہ کافر پر

کہہ رہا تھا معاف کرنا خدا
ہونٹ رکھے ہوئے میں پتھر پر

ان چراغوں کو ڈھونڈتا ہوں میں
بار ہیں جو ہوا کے لشکر پر

ریشمی سانس تھک گئ ارشاد
ہو نہ پائی کڑھائی کھدّر پر

ارشاد نیازی

post bar salamurdu

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button