آپ کا سلاماحمد خیالاردو غزلیاتشعر و شاعری

کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا

احمد خیال کی اردو غزل

کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا

جلتے ہوئے دیوں کی سہیلی ہوئی ہوا

شدت سے ہانپ ہانپ کے مردہ سی ہو چکی

وحشت زدہ چراغ سے کھیلی ہوئی ہوا

پلٹی تو داستان بھی پلٹے گی ایک دم

وادی کی بند سمت دھکیلی ہوئی ہوا

سب پات جھڑ چکے ہیں دیے بھی شکستہ ہیں

رقص و جنوں کی رت میں اکیلی ہوئی ہوا

کھڑکی سے آتے ہی مرے ماتھے کو چھوتی ہے

اس مہربان کی سی ہتھیلی ہوئی ہوا

احمد خیال 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button