آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم باسط

بہم تھے یار، چلا دورِ جام رات ہوئی

کلیم باسط کی ایک اردو غزل

بہم تھے یار، چلا دورِ جام رات ہوئی
وہ پیڑ اور پری سب پرانی بات ہوئی

ہر ایک شخص شبستاں کا راز جان گیا
امانِ شب سے سحر اور نیچ ذات ہوئی

اداس رستے تھے، منزل کا لطف کچھ نہ رہا
نہ دل میں شور اٹھا کچھ، نہ واردات ہوئی

غمِ حیات سے ممکن نہیں فرار کبھی
حیات موت کے پردے میں بھی حیات ہوئی

خبر ملی ہے ستارے زمیں پہ ٹوٹ پڑے
یہ ایک دن میں بھلا کیسی خاص بات ہوئی

کلیم باسط

post bar salamurdu

کلیم باسط

کلیم باسط سرگودھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button