آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیات

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے ؟

جواد شیخ کی ایک اردو غزل

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے ؟
پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے ؟

تُجھ سے جب مل کر بھی اُداسی کم نہیں ہوتی
تیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے؟

کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہے؟
ایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے؟

یار ! ہوا سے کیسے آگ بھڑک اُٹھتی ہے؟
لفظ کوئی انگارا کیسے ہو سکتا ہے ؟

کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے؟
درد کسی کو پیارا کیسے ہو سکتا ہے؟؟

ہم بھی کیسے ایک ہی شخص کے ہو کر رہ جائیں!
وہ بھی صرف ہمارا کیسے ہو سکتا ہے؟

کیسے ہو سکتا ہے جو کُچھ بھی میں چاہوں؟
بول نا میرے یارا ! کیسے ہو سکتا ہے؟؟

جواد شیخ

جواد شیخ

نام ۔۔۔۔ شیخ جواد حسین قلمی نام ۔۔۔۔ جواد شیخ ولدیت ۔۔۔ شیخ اعجاز حسین تاریخ پیدائش ۔۔۔ 26 مئی انیس سو پچاسی مقام پیدائش ۔۔۔۔۔ بھلوال ، ضلع سرگودھا تعلیم ۔۔۔۔ ایم اے اردو ادب تصنیف ۔۔۔۔ کوئی کوئی بات 2016

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button