آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعثمان علوی

پرندے اور کوئی دم میں جلنے والے تھے

عثمان علوی کی ایک اردو غزل

پرندے اور کوئی دم میں جلنے والے تھے
درخت دل میں بھری آگ اگلنے والے تھے

مؤذنوں کو تو اس بات کا پتہ ہی نہ تھا
کہیں سے تیر اندھیرے میں چلنے والے تھے

جہاز رانوں کی آنکھوں میں اتنی وحشت تھی
کہ بادبان ہی خیموں میں ڈھلنے والے تھے

یہ ماس خور یہ اندھی گپھا میں پلتے چور
سب اپنی نسل کے مردوں پہ پلنے والے تھے

میں جانتا ہوں چراغوں سے آئینوں کا سفر
میں جانتا ہوں جو بانسوں اچھلنے والے تھے

کہ ریت اڑ رہی ہوگی تو یاد آئیں گے
تمام آئنے جو راز اگلنے والے تھے

مجھے کمہار کے سونے سے مسئلہ نہیں پر
ظروف آج بھی کچے نکلنے والے تھے

وہ سرد رات وہ ققنس وہ اک چراغ عثمانؔ
سب اپنے اپنے الاؤ میں جلنے والے تھے

عثمان علوی

post bar salamurdu

عثمان علوی

حافظ آباد, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button