آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم احسان بٹ
تیر کس کی کماں سے نکلا ہے
کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل
تیر کس کی کماں سے نکلا ہے
سا منے شیر خوار بچہ ہے
دیکھ ! نہر فرات دیکھ ! ذرا
کون پیاسا ہے ؟ کون پیاسا ہے ؟
میرے سینے میں آگ جلتی ہے
میری آنکھوں میں ایک دریا ہے
میں ہوں تیر ے خیال کا چہر ہ
تو مجھے کیسے بھول سکتا ہے ؟
ہم جلائیں گے آنسوؤں کے چراغ
آج پھر دشتِ غم میں میلہ ہے
بس زباں میر ـؔ سی نہیں آتی
حال دل کا تو میر ؔ جیسا ہے
موت باطل کی دوستی ہے کلیم ؔ
زندگی کربلا میں لڑنا ہے
کلیم احسان بٹ








