آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمران سیفی

قریب ہے کہ وہ کہہ دے

عمران سیفی کی اردو غزل

قریب ہے کہ وہ کہہ دے کوئی خُدا نہیں ہے
جو مانتا ہے اُسے اس کی مانتا نہیں ہے

یہ عام طور پہ ہوتا ہے عشق کرنے سے
سو جس میں جان گئی ہے وہ حادثہ نہیں ہے

مخالفت کی تو عادت سی ہو گئی ہے سو اب
چراغ کیسے جلاوں اگر ہوا نہیں ہے

تم اپنا خیمہ جلا دینا اپنے ہاتھوں سے
کہ اس سے جنگ اگر ہو تو جیتنا نہیں ہے

اب اسکی آنکھ میں دیکھا کریں گے عکس اپنا
جو آئنے تو بناتا ہے بیچتا نہیں ہے

عمران سیفی

post bar salamurdu

عمران سیفی

میرا نام عمران سیفی ہے میں ڈنمارک میں مقیم ہوں پاکستان میں آبائی شہر سیالکوٹ ہے میرا پہلا شعری مجموعہ ستارہ نُما کے عنوان سے چھپ چکا ہے جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button