اردو غزلیاتساغر صدیقیشعر و شاعری

ایک وعدہ ہے کِسی کا جو وفا ہوتا نہیں

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

ایک وعدہ ہے کِسی کا جو وفا ہوتا نہیں
ورنہ اِن تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں

جی میں آتا ہے اُلٹ دیں اُنکے چہرے سے نقاب
حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں

شمع جس کی آبرو پر جان دے دے جُھوم کر
وہ پتنگا جل تو جاتا ہے فنا ہوتا نہیں

اب تو مدّت سے رہ و رسمِ نظارہ بند ہے
اب تو اُن کو طُور پر بھی سامنا ہوتا نہیں

ہر شناور کو نہیں ملتا طلاتم سے خراج
ہر سفینے کا محافظ نا خُدا ہوتا نہیں

ہر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی
ہر کس و ناکس کو تیرا غم عطا ہوتا نہیں

ہائے یہ بیگانگی اپنی نہیں مجھ کو خبر
ہائے یہ عالم کہ تو دل سے جُدا ہوتا نہیں

بار ہا دیکھا ہے ساغر رہگزارِ عشق میں
کارواں کے ساتھ اکثر رہنما ہوتا نہیں

ساغر صدیقی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button