آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعثمان علوی
نہال حسن بہت کم سمے کا ساتھی تھا
عثمان علوی کی ایک اردو غزل
مری طلب تھی مگر ساعت یقین تلک
وہ کم نگاہ بھی دو آتشے کا ساتھی تھا
کہ رنگ رفتگی ہر وقت تھا نگاہوں میں
مگر جو شام کے دورانیے کا ساتھی تھا
پھر ایک روز وہ گرد شفق میں ڈوب گیا
جو انتظار کسی طاقچے کا ساتھی تھا
مگر وہ نیند وہ جنت کا پیش خیمہ نیند
جہاں پہ ہر کوئی اک دوسرے کا ساتھی تھا
اسی نے ٹوٹ کے آنکھوں میں روشنی بھر دی
جو اک ستارہ مرے رت جگے کا ساتھی تھا
اسے تو چاہیے وہ ساتھ دے سہارا دے
اسے خبر ہے وہ اچھے برے کا ساتھی تھا
مرے لیے مری بانہیں قفس بنی ہوئی تھیں
مرے لیے تو اندھیرا دیے کا ساتھی تھا
یہ رزم گاہ ابابیل کھا گئی میرے
تمام شہر یہاں ابرہے کا ساتھی تھا
عثمان علوی








