آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

خاص بندوں پر خاص کرم

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

آپ نے غور کیا ہوگا کہ جب کسی اسکول یا کالج کے امتحان کا رزلٹ آتا ہے تو ایک طالب علم پہلی پوزیشن لیتا ہے یا ایک طالب علم پوری اسکول یا کالج میں ٹاپ کرتا ہے حالانکہ پڑھنے والے اور ذہین طالب علم اور بھی ہوں گے لیکن یہ منصب صرف ایک کو کیوں ملتا ہے اس لیئے کہ جو طالب علم ٹاپ کرتا ہے یا جو پہلی پوزیشن حاصل کرتا ہے وہ دوسرے طالب علموں سے زیادہ محنت اور پڑھائی میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں استاد کے لیکچر کے ہر ہر لفظ کو غور سے سن کر ذہن میں رکھ لیتے ہیں اور پھر وہی چیز انہیں امتحان کے دوران لکھنے اور پڑھنے میں مدد دیتی ہے اور یوں دوسروں کے مقابلے میں منفرد اور خاص ہوجاتے ہیں بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں میں سے کچھ لوگوں کو چن لیتا ہے وہ لوگ جو بظاہر پہلے پہلے بڑے عام ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جب ان بندوں میں کچھ خاص دیکھتا ہے تو پھر انہیں خاص بنانے کے لیئے اپنے طریقے سے اپنے قریب کرنے لگتا ہے اور جب اللہ تعالٰی کی ان بندوں سے خاص نسبت قائم ہو جاتی ہے تو پھر وہ عام نہیں رہتے بلکہ خاص ہوجاتے ہیں لیکن ہماری آنکھیں ان کے وہ رنگ دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور اگر کوئی دیکھنے والا ہوگا بھی تو وہ بھی اسی لائن کا بندہ ہوگا وہ ہی پہچان سکے گا ہمارے درمیان ایسے بیشمار لوگ موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن ہم پہچان نہیں سکتے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے خاص لوگ کون ہیں اور ان کے خاص ہونے کے بعد ان کے رنگ کیسے ہوتے ہیں ایک ہمارے ملک کے بہت بڑے لیکن سیدھے سادے عالم دین انتہائی ٹھنڈہ لہجہ میٹھا انداز بیان جناب محترم و معزز ڈاکٹر محمد سلیمان مصباحی دامت برکاتہم العالیہ صاحب نے ایک دفعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ایک دفعہ ایک پروگرام کے سلسلے میں سندھ کے علاقے گھوٹکی گیا میرے ساتھ کچھ اور ساتھی بھی تھے پروگرام کیا رات وہیں گزاری صبح فجر پڑھ کر وہاں سے روانہ ہوئے لیکن گھوٹکی کے آخر حصے پر جب پہنچے تو ساتھیوں نے کہا کہ یہاں ایک ڈھابہ ہے جہاں گڑ کی چائے ملتی ہے جو بہت مشہور ہے کیوں نہ پی کر نکلتے ہیں تو میں نے حامی بھر لی اور وہاں بیٹھ گئے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں یہاں وہاں دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر سامنے بیٹھے ہوئے ایک ایسے شخص پر پڑی جس کے بال بکھرے ہوئے میلا سا لباس اور گندی سی میلی سی چادر پہنے ہوئے اپنے خیالوں میں گم تھا پھر اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑی اور وہ میرے پاس آکر کہنے لگا کہ مجھے کچھ دو گے ؟ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں نہ جانے کیوں مجھے اس کے چہرے پر کچھ عجیب سا محسوس ہوا اس وقت میرے پاس 100 والے نئے نوٹ تھے میں نے ایک نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیا اتنے میں چائے آگئی اور وہ شخص میرے قریب بیٹھ گیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے چائے کے ساتھ کچھ کسی اور چیز کی بھی طلب تھی لیکن ساتھیوں کے سامنے زبان نہ اٹھی اور جو طلب تھی وہ میرے سامنے والے میز پر پڑی ہوئی تھی اب نفس ہے شیطان تو حملہ کرتا ہے اسی طلب نے دل میں ہل چل مچا رکھی تھی لیکن میں نے نفس کو خاموش کیا تو بالکل اچانک اس شخص نے کہا کہ حضرت
” دل میں جو تڑپ ہے وہ آپ کو ضرور ملے گی لیکن ابھی نہیں ” یہ کہہ کر وہ پھر بیٹھ گیا اور میں حیران ہوکر اسے دیکھ رہا تھا بس میں سمجھ گیا بظاہر ایسا نظر آنے والا یہ شخص کوئی عام انسان نہیں ہے یہ خاص ہے اللہ تعالیٰ نے اسے پردے میں رکھا ہوا ہے لیکن اسے نوازدیا ہے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ہم ایک عرصہ سے اس کو یہاں اسی حالت میں دیکھتے ہیں لیکن آپ پہلے شخص ہیں جن سے اس نے بات کی ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کے بغیر نہ کسی سے بات کرسکتے ہیں نہ ہی کوئی کلام پھر ہم وہاں سے اٹھے تو پھر میرے پاس آیا اور کہنے لگا غصہ کم کیا کریں غصہ اچھی چیز نہیں ہے اس کی بات سن کر ہم آگے بڑھے اور وہاں سے واپسی کے لیئے نکل کھڑے ہوگئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں سارے راستے یہ ہی سوچتا رہا کہ جب تک اس دنیا کی رنگینیوں کو دل سے نکال کر اس سے نفرت نہ ہو جائے تب تک اللہ ملتا نہیں اور جب اللہ ملتا ہے تو دنیا کی فکر رہتی نہیں اور پھر اللہ وہ وہ عطا کردیتا ہے جس کا دور دور تک گماں بھی نہیں ہوتا کیونکہ رب تعالیٰ کو تمہارے خوبصورت چہرے یا خوبصورت لباس کی ضرورت نہیں اسے تو اپنے بندے کا اپنے رب تعالیٰ سے پیار چاہئے اور جب وہ باری تعالیٰ اپنے بندے کی محبت اور تڑپ کا اندازہ کرلیتا ہے تو اسے اپنا قرب عطا کرنا شروع کردیتا ہے یہ شخص ابھی ابتدائی سفر پر ہے آپ اندازہ لگایئے کہ جب رب العزت اپنے کسی بندے کو اپنا قرب عطا کرنا شروع کردے اور اس کے شروع کے سفر میں اس کی یہ حالت ہو تو جو مکمل اللہ تعالیٰ کے قرب میں ڈوب جائے پھر اس کا کیا حال ہوگا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ تعالیٰ کی یہ عنایت یہ کرم نوازی ہر انسان کے لیئے ہے لیکن اسے حاصل صرف وہی کرتا ہے جسے رب العالمین نے خاص بنانا ہوتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا سفر بڑا کٹھن ہے اپنے آپ کو مارنا پڑتا ہے دنیا اور اس کی لذتوں سے منہ موڑنا پڑتا ہے دنیا کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کی عادت ڈالنی ہوتی ہے لیکن یہ قربانی رنگ لاتی ہے کیونکہ پھر وہ زندگی یہ زندگی نہیں رہتی بلکہ ہمیشہ رہنے والی بن جاتی ہے اللہ تبارک وتعالی پھر اپنے اس بندے کو بڑا مقام عطا فرماتا ہے اس کی کوئی بات رد نہیں ہوتی اس کی منہ سے نکلی بات بعد میں نکلتی ہے رب العزت پہلے اسے پورا کردیتا ہے کیونکہ وہ اب عام انسان نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا دوست ہے اور سچے پکے دوست کی بات کبھی ٹالی نہیں جاتی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ دورے پر تھے ایک خوبصورت کھیت کے پاس سے گزرے تو ایک نوجوان کو دیکھا جو کھیت میں ہل چلارہا تھا جب اس کی نظر آپ علیہ السلام پر پڑی تو وہ دوڑ کر آگیا اور عرض کرنے لگا کہ حضور آپ علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کے لاڈلے اور برگزیدہ نبی ہیں میرا ایک کام تو کردیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بولو کیا کام ہے تو اس نوجوان نے عرض کیا کہ رب العالمین سے کہیئے کہ مجھے اپنا قرب عطا کردے تو آپ علیہ السلام اس نوجوان کی بات سن کر مسکرائے اور رب العالمین کی طرف دیکھ کر فرمایا اے مالک تو بہتر جانتا ہے اور اس وقت اس نوجوان کی بات بھی تو نے سن لی ہے اب تو جان اور تیرا کام یہ سوچ کر آپ علیہ السلام اس نوجوان کی دیکھتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کچھ عرصہ گزرا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام دوبارہ اسی جگہ سے گزرے تو انہیں وہ نوجوان وہاں نظر نہ آیا لوگوں سے پوچھا لیکن کسی نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا ایک شخص نے سامنے موجود ایک بلند پہاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پہاڑی پر ایک شخص ہے جو وہیں پر رہتا ہے نہ کسی سے بات کرتا ہے اور نہ ہی نیچے آتا ہے بس آسمان کی طرف دیکھتا رہتا ہے اور اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس شخص سے ملنے کا اشتیاق ہوا اور آپ علیہ السلام پہاڑی پر چڑھنے لگے بڑی محنت اور مشقت کے بعد جب آپ پہاڑی پر چڑھے تو دیکھا کہ یہ تو وہ ہی نوجوان ہے لیکن اس کے تو بال بھی بکھرے ہوئے ہیں لباس بھی میلا ہے آپ علیہ السلام اس کے قریب گئے اور فرمایا اے نوجوان میں آیا ہوں تو اس شخص کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا آپ علیہ السلام نے پھر فرمایا کہ میں اللہ کا نبی موسٰی (علیہ السلام) ہوں تو اچانک غیب سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) میں نے تیرے کہنے پر اس کو اپنے قرب کی صرف ایک جھلک عطا کی ہے اب تم دیکھ لو جس کو میرے قرب کی ایک جھلک ملے وہ کسی کو پہچاننے سے انکار کردے تو جو پورے کا پورا میرے قرب میں اجائے اس کی کیا حالت ہوگی کیونکہ یہ سب میرے خاص بندے ہیں اب ان کا دنیا اور اس کی چکاچوند والی رنگینیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے قسم ہے میرے رب ہونے کی اگر تم اس کا دل بھی خیر کر دیکھو گے تو وہاں صرف میں ہی نظر آئؤں گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے خاص بندے جنہیں اللہ تبارک وتعالی اپنا قرب عطا کرکے اپنا دوست بنا لیتا ہے آیئے اب میں ان خاص لوگوں کی خاص باتوں کی طرف چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوجانے کے بعد ان کی کیفیات کیا ہوتی ہیں ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء کرام ، رسول ، صحابہ کرام ، اولیاء کرام ، بزرگان دین اور ولی اللّٰہ بھی اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شامل ہیں یہاں میں بزرگاں دین میں ایک بہت بڑا نام ہے ان کا ذکر کرنا اپنی سعادت سمجھتا ہوں جنہیں امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے نام سے ہر عاشق رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم جانتا اور پہچانتا ہے آپ کے زمانے میں ہندوئوں کا دور تھا اور پورے انڈیا میں ہندوئوں کا راج تھا لہذہ مسلمان اپنی عبادتیں بھی چھپ چھپ کر کیا کرتے تھے ایک دفعہ بارش کا موسم تھا رات کا وقت تھا تو امام کے گھر کی ایک دیوار گر گئی اس دیوار کے ساتھ ایک ہندو کا مکان تھا اور وہ آپ علیہ الرحمہ کا بڑا دشمن تھا آپ علیہ الرحمہ نے مستری بلوایا تو اس نے کہا کہ میں صبح آکر اس کی تعمیر کردوں گا آپ علیہ الرحمہ عشاء کی نماز پڑھنے چلے گئے جب آپ علیہ الرحمہ نماز سے فارغ ہوکر واپس حجرے کی طرف آرہے تھے تو کچھ شور کی آواز آئی آپ علیہ الرحمہ نے دیکھا تو کچھ لوگ کھڑے تھے آپ نے پوچھا کیا معاملہ ہے تو کہنے لگے حضور ہم سوچ رہے ہیں کہ آپ علیہ الرحمہ کے گھر کے پاس کوئی گارڈ کھڑا کردیں یہاں ہندو آپ علیہ الرحمہ کی جان کے دشمن ہیں اور وہ کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں تو آپ علیہ الرحمہ نے کچھ سوچنے کے بعد فرمایا کہ نہیں تم سب لوگ جائو اور سو جائو میری حفاظت اللہ فرمائے گا لہذہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دیئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں صبح جب فجر کا وقت ہوا تو حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نماز کے لیئے سیڑھیاں اتر رہے تھے تو وہ ہی ہندو جو آپ علیہ الرحمہ کا سب سے بڑا دشمن تھا بیٹھا ہوا تھا کہنے لگا مجھے کلمہ پڑھایئے تو آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا ابھی صبر کرلو اور خوب سوچ لو پھر جب نیچے اترے تو اس نے پائوں پکڑ لیا کہنے لگا ایسا تو مت کریں تب آپ علیہ الرحمہ نے اسے کلمہ پڑھایا کچھ نصیحتیں فرمائی اور پھر چلے گئے جب وہ اپنے گھر پہنچا تو لوگوں نے پوچھا یہ سب کیا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ جب رات کو احمد رضا کے لیئے لوگ گارڈ کھڑا کرنے کی بات کررہے تھے تو میں سن رہا تھا اور جب امام صاحب نے سب کو جانے کا کہا تب ہی میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ آج میں اپنے ہاتھوں سے ان کی گردن کاٹوں گا اور پھر رات کے پچھلے پہر جب لوگ گہری نیند میں تھے میں نے اپنی تلوار نکالی اور چپکے سے گیا جیسے ہی ان کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ دو شیر کھڑے ہیں میں بھاگ کر واپس آگیا پھر سحری کے وقت پہنچا تو پھر شیر کھڑے تھے میں الٹے پائوں بھاگا تو امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے آواز دی اور کہا کہ بھاگتے کیوں ہو تم کیا سمجھے کہ میں لاوارث ہوں اکیلا ہوں تو میں نے گھبراکر پوچھا لیکن مولانا صاحب یہ کون تھے تو فرمایا ابھی تو صرف میرے پیرا ن پیر حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدد پہنچی تھی ابھی مولا مشکل کشاء تو پیچھے تھے اللہ تعالیٰ کے حبیب کریم ﷺ تو پیچھے تھے تو ابھی سے گھبراگیا تو میں سمجھ گیا کہ جو اللہ تعالیٰ کا خاص بندہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کا زمہ خود اٹھاتا ہے اور دوسرے خاص بندوں کو مدد کے لیئے ڈیوٹی دے دیتا ہے بس میں نے توبہ کی اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا اور اب میرا شمار بھی ان کے مریدوں میں ہوا کرے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کی خاطر اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر دنیا کی محبت کو ٹھکرا کر کر اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم حضورﷺ کے فرمودات پر عمل کرنا شروع کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے ایک خاص مقام عطا کرکے خاص انعامات سے نوازدیتا ہے پھر وہ انعامات ان سے ہونے والے کرامات سے نظر آنے لگتے ہیں امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کاپیغام لوگوں تک سچائی سے پہنچانے کا اہتمام اپنی خوبصورت اور جامع تحریروں کے ذریعے سے کیا اس کے علاوہ حدائق بخشش آپ علیہ الرحمہ کا سچے عاشق رسول صلی اللّٰہ علیہ والیہ وسلم ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت ہے اسی لیئے اللہ تعالیٰ نے انہیں جن صلاحیتوں سے نوازا وہ انہی کا خاصہ تھیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے اردگرد ایسے بیشمار لوگ گھوم رہے ہوتے ہیں جو ہمیں نظر تو آرہے ہوتے ہیں لیکن ہمیں کوئی فقیر یا پاگل انسان کی مشابہت ان میں نظر آئے گی کیونکہ ہمارے پاس وہ آنکھیں نہیں ہیں جو ایسے لوگوں کو پہچان سکیں ہمارے پاس پرکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ان کا وہ رنگ جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہوا ہے یہاں ایک بات اور عرض کروں کہ اللہ تعالیٰ یہ صلاحیتیں صرف انسانوں کو ہی نہیں بخشتا بلکہ وہ اپنی بیشمار مخلوق میں جس کا انتخاب کرنا چاہے اسے منتخب کرکے اسے اپنے خاص ہونے کا انعام عطا کردیتا ہے بس رب العزت کسی کو عطا کرنا چاہتا ہے تو اس کا بیڑا پار ہوجاتا ہے ایک بزرگ تھے جو گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے لیکن انہیں کچھ دنوں میں یہ محسوس ہوا کہ اتنے شورشرابے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ممکن نہیں لہذہ انہوں نے کچھ مختصر ضرورت کا سامان لیا اور جنگل کی طرف چل دیئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں چلتے چلتے وہ ایک گھنے درخت کے پاس پہنچے آپ نے محسوس کیا کہ یہ جگہ مناسب ہے دوپہر کا وقت تھا انہوں نے مصلہ بچھایا اور ذکر الہیٰ میں مشغول ہوگئے شام ڈھلتے ہی ایک پرندہ جس کا اس درخت پر گھونسلہ تھا وہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ایک بزرگ نیچے بیٹھے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہیں جب رات کا سناٹا ہوگیا ہر طرف خاموشی چھاگئی تو اس پرندے نے اوپر سے ایک درخت پر لگے ہوئے ایک سیب کو ہلا کر نیچے پھینکا اور جب وہ سیب ان بزرگ کی گود میں جاکر گرا تو وہ چونکے اور اوپر دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے پرندہ کو قوت گویائی عطا کی اور اس نے کہا کہ بزرگوں کچھ کھا لیجئے اس پرندے کو بولتا دیکھ کر وہ حیران ہوگئے اور چپ چاپ سیب کھانے میں مصروف ہوگئے اسی طرح وقت گزرتا رہا ایک دن اس پرندے نے کہا کہ بزرگوں کچھ حاصل ہوا ؟ تو بزرگ نے فرمایا ابھی وقت لگے گا تو اس پرندے نے کہا کہ یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک اور بزرگ بھی ہیں وہ بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی شان کچھ علیحدہ ہے تو بزرگ کہنے لگے وہ کیا تو پرندے نے کہا کہ صبح دن چڑھے میں آپ کو لے جائوں گا آپ مل کر اندازا کر لیجئے گا آپ کو خود معلوم ہو جائے گا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں صبح ہی صبح وہ پرندہ اڑا اور کہنے لگا کہ بزرگوں میرے پیچھے پیچھے چلے آئو وہ اڑتے ہوئے آگے آگے جارہا تھا اور بزرگ اس کے پیچھے پیچھے یہاں تک کہ ایک دریا آگئی اور دوسری جانب جانے کے لیئے ایک پل بھی بنا ہوا تھا لیکن وہ پرندہ وہیں رک گیا تو بزرگ نے فرمایا کیا ہوا ؟ تو اس پرندے نے کہا کہ اس پل کے کونے میں نیچے جا کر دیکھو وہ بزرگ وہیں ملیں گے یہ بزرگ حیران ہوگئے کہ پل کے نیچے بڑی مشکل سے وہ نیچے اترے تو کیا دیکھا کہ ایک چھوٹی سے کٹیا بنی ہوئی ہے اور وہاں ایک کمزور سے پتلے دبلے بزرگ بیٹھے اللہ کا ذکر کرنے میں مصروف تھے یہ بزرگ جب ان کے قریب پہنچے تو ان بزرگ نے مسکراتے ہوئے استقبال کیا اور بیٹھنے کو کہا یہ بزرگ بیٹھ گئے اتنے میں ایک تھال جس میں دودھ کا گلاس اور کچھ پھل فروٹ تھے وہ خود بخود ان بزرگ کے سامنے آگیا وہ پریشان ہوگئے کہ لانے والا کوئی نظر آرہا ہے پھر یہ تھال کہاں سے آیا ؟
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ بزرگ کہنے لگے کہ آپ یہاں کب سے ہیں تو انہوں نے فرمایا مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ میں پیدائشی طور پر یہاں ہوں مجھے دنیا کو دیکھے ہوئے ایک عرصہ بیت گیا تو یہ بزرگ کہنے لگے کہ آپ یہاں کھاتے پیتے کیا ہیں تو وہ بزرگ فرمانے لگے کہ جس طرح سے تمہارے لیئے ابھی تھال آیا تھا بالکل اسی طرح میرا کھانا بھی خود بخود اجاتا ہے یہ بزرگ کہنے لگے یہاں تو صرف جنگل کی جنگل ہے کوئی جنگلی جانور وغیرہ سے کوئی خوف نہیں آتا تو فرمایا کہ یہاں کے سارے جانور اور چرند پرند میرے تابع ہیں تو یہ بزرگ کہنے لگے کہ آپ کا کونسا عمل ایسا ہے جس کی وجہ سے آپ کو یہ مقام ملا ہے تو فرمایا کہ مجھے میرا کوئی عمل صحیح نہیں لگتا میرا رب جانے کہ اسے میری کونسی بات پسند آگئی ہے میں ابھی بھی اس کا ذکر کرتے ہوئے توبہ و استغفار کرتا رہتا ہوں ابھی دونوں بزرگ باتوں میں مصروف تھے کہ اتنے میں کھانے کا ایک تھال خود بخود حاضر ہوگیا تو فرمایا آئو کھانا تناول کرلو پھر دونوں بزرگ کھانا کھانے لگے یہ بزرگ ان بزرگ جو بڑے غور سے کھانا تناول کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے جب کھانا کھا چکے تو آنے والے بزرگ نے اجازت طلب کی اور روانہ ہوگئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب وہ بزرگ درخت کے نیچے یعنی اپنی جگہ پہنچے تو پرندے نے پوچھا کہ بزرگوں آپ کو ان بزرگ سے مل کر کیسا لگا اور ان کی علیحدہ شان کی کوئی نشانی ملی تو کہنے لگے کہ انہوں نے واضح الفاظ میں تو کچھ نہیں بتایا اور میں ان کے ہر عمل پر نظر جما کر بیٹھا تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ مجھے ان کا وہ عمل مل گیا ہے جس کی وجہ سے رب العالمین نے انہیں اپنے مقرب بندے کا مقام عطا کیا ہے تو پرندے نے کہا وہ کیا ہے ؟ تو کہنے لگے کہ جب ہم کھانا کھانے لگے تو میں انہیں بڑے غور سے دیکھ رہا تھا ہمارے کھانا کھانے اور ان کے کھانا کھانے میں بڑا فرق تھا تو پرندے نے کہا وہ کیسے ؟ تو کہا کہ ہم کھانا کھانے سے پہلے بسمہ اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں جب کہ انہوں نے جتنے نوالے اٹھائے ہر نوالے کو منہ میں ڈالنے سے پہلے بسمہ اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے اور کھا چکے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا بس یہ ہی ادا ہے یہ ہی عمل ہے جو انہیں اس مقام تک لیکر آئی ہے کہ وہ دنیا سے دور جنگل بیابان میں پانی کے اوپر ایک کونے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے ذکر واذکار میں گزار رہے ہیں اور رب تعالیٰ انہیں خوراک بھی میسر کرتا ہے اور ہوا پانی بھی جبکہ جانور چرند پرند سب کے سب ان کے تابع ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہر ہر نوالے پر بسمہ اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کی کیا ہم لوگوں کو عادت ہے بلکہ ہم میں سے کئی لوگ تو ایسے بھی ہیں جو کھانا کھانے سے پہلے بسمہ اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہی نہیں ہیں حالانکہ میں تو جانتا ہوں کہ میرا رب نقطہ نواز ہے وہ چاہے تو انسان کے کسی بھی ایک نیک عمل سے اس کے سارے گناہ معاف کرکے اسے جنت کی خوش خبری سنادے اور وہ چاہے تو کسی ایک گناہ کے سبب ہماری ساری نیکیوں کو برباد کردے وہ رب چاہے تو ایک توبہ پر ہمیں معاف کرکے اپنا مقرب اور خاص بندہ بناکر بڑا مقام عطا کردے بس اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا ہوگا صرف اسی کے کہنے پر عمل کرنا ہوگا دنیا کی چمک دمک سے باہر نکلنا ہوگا بس صرف اسی سے لو لگانی ہوگی پھر ہمارا بھی بیڑا پار ہو جائے گا انشاء اللہ میری دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمیں صرف اپنے احکامات پر عمل کرنے اور اپنے حبیب کریم ﷺ کے فرمودات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے کسی بھی نیک عمل کے سبب ہمیں اپنا قرب عطا کرکے اپنے خاص بندوں میں شامل کردے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے اپنی دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button